مطالبات کو حل نہ کیا گیا تو 28 دسمبر 2024 سے جموں میں غیر معینہ عرصہ کیلئے بھوک ہڑتال ہو گی / صدر ایسوی ایشن
سرینگر // جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن نے جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن کو یوم سیاہ کے بطور منانے کے علاوہ مطالبات منوانے کیلئے ایک مرتبہ پھر پُر امن احتجاج درج کیا اور مرکزی و جموں کشمیر سرکار پر زور دیا ہے کہ ان کے جو بھی جائیزمطالبات کے ان کو فوری طورپر حل کیا جائے ۔سی این آئی کے مطابق جسمانی طور نا خیز افراد کے عالمی دن کو جموں کشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر یوم سیاہ کے بطور منایا اور مطالبات منوانے کے حق میں سرینگر او ر جموں میں زور دار احتجاج بلند کر دیا ۔منگل کی صبح جموں کشمیر ہینڈ ی کپیڈ ایسوسی ایشن کے بینر تلے درجنوں کی تعداد میںجسمانی طور نا خیز افرادنے پر یس کالونی سرینگر میں نمودار ہوکر احتجاج درج کر لیا ۔ اس موقعہ پر جسمانی طور نا خیز افراد نے کہا کہ ہمارے جائیز مطالبات کو حل کیا جائے ۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے جموں کشمیر ہینڈی کپیڈ ایسوسی ایشن کے صدر عبد الرشید بٹ نے بتایا کہ جسمانی طور نا خیز افراد کے کافی مطابات پڑے ہوئے جنہیں حل نہیں کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سال 2019 کے بعد پہلے بار عوامی حکومت عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس برسر اقتدار میں آئی ہیں تو ہمیں کافی خوشی محسوس ہوئی ہے کہ اب جموں وکشمیر کے لاکھوں جسمانی طور معذور لوگوں کے مسئلے اور مسائل حل ہونگے اور یہ بات خود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور سوشل ویلفیئر وزیر سکینہ مصود ایتو نے بھی کی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اسی کے ساتھ ایسوسی ایشن نے جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ سوشل ویلفیئر وزیر اور لیفٹنٹ گورنر کے دفتر میں درخواست دیے تھی تاکہ ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں کو ملنے کا وقت دیا جائے اور جموں وکشمیر میں لاکھوں جسمانی طور معذور لوگوں کے جیتنے بھی مسئلے اور مسائل اور مشکلات ہیں ان پر بات چیت کیا جائے اور ان کو مرحلے وار طریقہ پر حل کرنے کیلئے کوئی روڈ میپ تیار کیا جائے مگر بدقسمتی کی وجہ آج تک نہ ہمیں ان درخواستوں کا سرکار کی طرف کوئی جواب آیا اور نہ ہی ملنے کا وقت فراہم کیا گیا ہے ۔ اس کے پیچھے کیا وجہ ہے ہم ناواقف ہیں۔ بٹ نے کہا کہ اگر جموں وکشمیر کی حکومت معذور افراد کے مسئلے حل کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو جموں وکشمیر ہینڈی کیپڈ ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے 28 دسمبر 2024 سے جموں میں غیر معینہ عرصہ کیلئے دھرنا شروع کیا جائے گا اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک جموں وکشمیر کے لاکھوں جسمانی طور معذور لوگوں کے جیتنے بھی جائیز مانگیں ہیں وہ حل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے گا وہ تمام تر ذمہ داری وقت کے حکومت اور انتظامیہ پر عائد ہو گئی ۔










