سری نگر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ اَضلاع میں جاری مختلف واٹر سپلائی منصوبوں کی پیش رفت اور کارکردگی کا جائزہ لیاگیا۔یہ میٹنگ مینی سطح پر منصوبوں کی عمل آوری کا جائزہ لینے اور ممکنہ رُکاوٹوں کی نشاندہی کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی تھی جس میں جل شکتی محکمہ کے چیف اِنجینئر، سینئر اَفسران اور جنوبی کشمیر کے تینوں اَضلاع کے ضلعی اَفسران نے شرکت کی۔جائزہ میں جل جیون مشن کے تحت مساوی اوردیرپا پانی کی رَسائی کے ویژن کے مطابق ہر گھر تک پینے کے صاف اور قابل اعتماد پانی کی فراہمی کو تیز کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔دورانِ میٹنگ وزیر موصوف نے عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام شہریوں کو صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رَسائی یقینی بنائی جائے گی۔اُنہوں نے مقررہ مدت کے اندر اہداف کو پورا کرنے کے لئے مؤثر نگرانی کے نظام اور عمل درآمد کی مضبوط حکمتِ عملیوں کی اہمیت پر زور دیا۔وزیر جاوید رانا نے شفافیت، جوابدہی اور معیار کی یقین دہانی کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنائیں، عوامی شکایات کا بروقت اَزالہ کریں اور شہریوں کے اطمینان میں مسلسل بہتری کے لئے کام کریں۔شفافیت، جوابدہی اور معیار کی یقین دہانی کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے وزیر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ خدمات کی فراہمی کے طریقہ کار کو بہتر بنائیں، عوامی شکایات کو تیزی سے دور کریں اور شہریوں کی اطمینان کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کریں۔ اُنہوں نے عوامی شمولیت کو حکومتی اقدامات کی کامیابی میں کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کے تحفظ کے لئے کمیونٹی کی بھرپور شراکت لازمی ہے۔وزیر موصوف نے کہا،’’یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ دستیاب آبی وسائل کا درست اِستعمال کریں۔ ہمیں ایک ماحول دوست طرزِ زندگی اَپنانا چاہیے تاکہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور آنے والی نسلوں کے لئے دیرپا مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘اُنہوں نے تالابوں، چشموں، ندیوں اور دلدلی علاقوں جیسے روایتی آبی ذخائر کی بحالی اور تحفظ کے لئے بھی احکامات جاری کئے۔اُنہوں نے کہا کہ ایسی کوششیں نہ صرف پانی کی دستیابی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ مقامی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بناتی ہیں اورپانی کی کمی کو دور کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔وزیرجاوید رانانے جل جیون مشن، جل شکتی ابھیان اور دیگر متعلقہ سکیموں کے باہم ربط پر زور دیا تاکہ وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبوں کے بہتر نتائج کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ کے ضلعی اِنتظامیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اَب تک کی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ زمینی چیلنجوں کے باوجود رفتار برقرار رکھیں۔وزیرموصوف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ایک پانی سے محفوظ خطہ بنانے اور ہر شہری کو محفوظ اوردیرپا پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لئے بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔










