منصوبہ بند شجرکاری مہمات اور ماحولیاتی منظوریوں کے مؤثر تعاقب پر زور
سری نگر//وزیر برائے محکمہ جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا نے سول سیکرٹریٹ میں ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں اننت ناگ، کولگام اور پلوامہ اَضلاع میں محکمہ جنگلات کی کارکردگی اور جاری سرگرمیوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں جنگلاتی ترقی، شجرکاری، ماحولیاتی سیاحت کے فروغ، مٹی و آبی تحفظ، جنگلاتی اثاثوں کے تحفظ اور قدرتی وسائل کے دیرپا انتظام میں مقامی کمیونٹی کی شمولیت جیسے اہم شعبہ جات پر غوروخوض کیا گیا۔ وزیر موصوف نے اَب تک کی پیش رفت کا احاطہ کرتے ہوئے ان شعبوں کی نشاندہی کی جہاں مزید بہتری اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے چیلنجوںکے تناظر میں جنوبی کشمیر میں سبز علاقے کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے متعلقہ ڈویژنل فارسٹ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ شجرکاری مہمات کو اوّلین ترجیح دیں اور ہر علاقے کی مناسبت سے تفصیلی منصوبے مرتب کریں۔اُنہوں نے کہا کہ شجرکاری کا عمل محض پودے لگانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کی بقأ اور نگہداشت بھی اتنی ہی اہم ہے۔اُنہوں نے اِس مقصد کے لئے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ شجرکاری کے بعد نگہداشت اور مؤثر نگرانی کے نظام کو عملی طور پرعملایا جائے تاکہ ماحول دوست اَقدامات کے دیرپا اثرات ممکن ہو سکیں۔
وزیر جاوید رانانے عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے جنگلات پر مبنی دیرپائی اور مقامی روزگار کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اُضلاع میں شجرکاری اور جنگلاتی بحالی کی سرگرمیوں میں مزید تیزی لانے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے مؤثر اطلاعات، تعلیم اور ابلاغ (آئی اِی سی ) مہمات پر زور دیتے ہوئے مقامی کمیونٹی، تعلیمی اِداروں اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی بھرپور شمولیت کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ لوگوں میں ماحولیاتی بیداریپیدا کیا جاسکے۔اُنہوں نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے زیرِ اِلتوأ جنگلاتی منظوریوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور ہدایت دی کہ منظوری کے عمل کو مؤثر، مربوط اور تیز تر بنایا جائے۔ وزیر جنگلات نے متعلقہ حکام کو سختی سے ہدایت دی کہ ماحولیاتی ضوابط پر مکمل عمل آور ی کو یقینی بناتے ہوئے پانی کی فراہمی، سڑکوں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی جیسے اہم منصوبوں کو بروقت ماحولیاتی منظوری دی جائے۔اُنہوں نے مٹی کے تحفظ اور سوشل فارسٹری سرگرمیوں کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اَقدامات زمین کے کٹاؤ کو روکنے، زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانے اور جنگلات پر انحصار کرنے والی کمیونٹیوں کے لئے دیرپا معاش کے ذرائع فراہم کرنے میں کلیدی رول اَدا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِن سرگرمیوں کو موسمیاتی اور دیہی ترقی کے جامع منصوبوں سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔
میٹنگ میں وزیر موصوف نے فارسٹ رائٹس ایکٹ (ایف آر اے) کے ضلع وار عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا اور اِنفرادی و اِجتماعی جنگلاتی حقوق کی بروقت شناخت و اندراج پر خاص توجہ دی۔ اُنہوں نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ مال اور قبائلی امور کے ساتھ قریبی تال میل و اِشتراک رکھتے ہوئے زیر اِلتوأ دعوؤں کے تصفیے، شکایات کے اَزالے اور مناسب دستاویز بندی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔ اُنہوں نے اِس سلسلے میں سخت ہدایات بھی جاری کیں تاکہ قبائلی اَفراد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔جاوید احمد رانا نے ماحولیاتی سیاحت کے فروغ کے لئے اَضلاع میں نئے ممکنہ ایکوٹوراِزم مقامات کی نشاندہی اور ترقی پر زور دیا۔ اُنہوں نے مقامی نوجوانوں کے رول کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی شمولیت ان منصوبوں کی دیرپائی کے لئے ناگزیر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف روزگار کے مواقع فراہم کرتی ہیں بلکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے بارے میں بیداری بھی پیدا کرتی ہیں۔ اُنہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر میں جنگلاتی تحفظ کو مؤثر اوردیرپا بنانے کے لئے تمام ممکنہ اَقدامات کئے جائیں گے تاکہ ترقیاتی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھا جا سکے۔










