سرینگر//بھارت کی جی-20 صدارت ملک کی تاریخ میں ایک انتہائی یادگار لمحہ ہے کیونکہ یہ سبھی کی خوشحالی کیلئے عالمی حل تلاش کرنے کے سبب انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اور ایسا کرنے میں یہ واسودیوا کٹم بکم یا دنیا ایک خاندان ہے کے اصل جذبے کو ظاہر کرتا ہے۔سی این آئی کے مطابق بھارت نے ایک دسمبر 2022کو G-20کی صدارت سنبھالی۔ اس سے پہلے انڈونیشیا G-20کی صدارت کی ذمہ داری نبھارہاتھا۔ وزیراعظم نریندرمودی نے اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’واسودھیو کٹمبکم‘ کے ذریعے عالمی سطح پر مثبت تبدیلیاں لانے کی کوشش جاری ہے۔ بھارت کی G-20 صدارت میں ماحولیاتی تبدیلیوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس کے تحت نہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے درکار سرمایہ اور ٹیکنالوجی پر زور دیا جائے گا بلکہ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کیلئے توانائی کی منتقلی کے منصفانہ عمل کو یقینی بنایاجائے گا۔ بھارت ان شعبوں پر توجہ مرکوز رکھے گا جو بنیادی اصلاحات کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ بھارت اپنی G-20 صدارت کے تحت ٹیکنالوجی اور معلومات کے تبادلے کے عمل میں انسانی بنیادوں پر مبنی طریقہ کار اپنا سکتا ہے۔ان شعبوں میں زراعت اور تعلیم کا احاطہ کیاگیاہے۔ ترقی کے عمل میں خواتین کی قیادت اور خواتین کیلئے مساوی مواقع بھی بھارت کی G-20 صدارت کے اہم نکات ہیں۔ حالانکہ G-20 میٹنگیں ملک کے مختلف مقامات پر منعقد ہورہی ہیں لیکن اس کے ذریعے بھارت کو اپنی ثقافت، وراثت اور فنون لطیفہ کو پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔










