دفتر خارجہ کا سخت ردعمل، پاکستان پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور دہشت گردی کے سرپرستی کا الزام
سرینگر /وی او آئی//بھارت نے جموں و کشمیر میں تعمیر کیے جا رہے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق ’’عدالت برائے ثالثی‘‘ کے حالیہ “سپلی مینٹل ایوارڈ” کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے “پاکستان کے کہنے پر کی جانے والی بے بنیاد اور سیاسی چال” قرار دیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوارڈ نہ صرف سندھ طاس معاہدے ’’انڈس واٹر ٹریٹری ‘‘1960 کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ ایک “غیر قانونی طور پر تشکیل دی گئی ثالثی عدالت” کے دائر اختیار کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، جو بھارت کے نزدیک ناقابل قبول ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بھارت اس ایوارڈ کو اسی طرح مسترد کرتا ہے جیسے اس سے قبل متعلقہ ادارے کی تمام کارروائیوں اور فیصلوں کو مسترد کیا جا چکا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، “پاکستان کی طرف سے یہ تازہ ترین کوشش، دہشت گردی کے عالمی مرکز کے طور پر اپنے کردار کے احتساب سے بچنے کی ایک اور مایوس کن چال ہے۔وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کو قابلِ اعتبار طریقے سے ترک نہیں کرتا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کا پابند نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا، “یہ معاہدہ اس وقت مؤخر سمجھا جانا چاہیے، اور اس تناظر میں کسی بھی ثالثی فورم — خاص طور پر ایسا ادارہ جسے بھارت غیر قانونی تصور کرتا ہے — کو بھارت کے اقدامات پر قانونی رائے دینے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔بھارت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بین الاقوامی فورمز پر دہائیوں سے چالاکی، دھوکہ دہی اور ہیرا پھیری کے طریقے استعمال کرتا آ رہا ہے، اور یہ تازہ ثالثی کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو پروجیکٹس پر پاکستان متعدد بار اعتراض کر چکا ہے، جس پر بھارت کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹس معاہدے کے دائرے میں رہ کر تعمیر کیے جا رہے ہیں اور ان سے کسی بھی طور پر پاکستان کے پانی کے حصے پر اثر نہیں پڑتا۔










