سرینگر//جموںو کشمیرپولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) دلباغ سنگھ نے اتوار کو کہا کہ کشمیرمیں حالیہ تشدد کے بعد حالات اب بہت بہتر ہیں۔انہوں نے کہا بندوقوں اور پتھروں کو چھوڑ کر قلم اور کتابوں سے تبدیل کیا جانا چاہئے۔انہوں نے کہاکشمیر میں کوئی بھی تشدد نہیں چاہتا، ہر کوئی امن اور ترقی چاہتا ہے۔دلباغ سنگھ نے بتایا حالیہ تشدد کے واقعات کو لوگوں نے بڑے پیمانے پر مذمت کی ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق دلباغٖ سنگھ سرینگر میں جموںو کشمیر آرمڈ پولیس کی جانب سے منعقد’’میراتھن ‘‘ کی ایک تقریب میں شرکت کرنے کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے،انہوں نے کہا کہ، سیکورٹی، پولیس خاص طور پر آرمڈ پولیس ہمیشہ لوگوں کے لیے خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے لیے ان تقریبات کا انعقاد کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ان کا اعتماد بڑھایا جا سکے۔دلباغ سنگھ نے بتایا اس سے قبل ڈل جھیل پر جشن ڈل پروگرام اور سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقریبات کا انعقاد نوجوانوں میں اعتماد کا جذبہ پیدا کرنے اور انہیں ہر شعبے کے قابل بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آج کا پروگرام امن اور اتحاد کے بارے میں ہے۔ جیسا کہ قومی سطح پر 31 اکتوبر کو یوم یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے، لہٰذا “ہم نے اس میراتھن ایونٹ کا انعقاد امن اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے کیا ہے۔ اس تقریب میںعمررسیدہ افراد اور بچوں سمیت 700 سے زائد افراد نے حصہ لیا”۔انہوں نے مزید کہا، “میں اس پروگرام تمام شرکاء اور جیتنے والوں کو ان کی شاندار پرفارمنس پر سراہتا ہوں اور مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تمام شرکاء نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ اس تقریب میں حصہ لیا۔ میں آرمڈپولیس کو اس تقریب کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں”، انہوں نے مزید کہا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صورتحال کافی حد تک قابو میں ہے۔ لوگ صرف امن چاہتے ہیں اور وہ ہر قسم کے تشدد کے خلاف ہیں۔ عوام نے حالیہ تمام واقعات کی مذمت کی ہے اور ہمیشہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کیا ہے۔اکتوبر میں وادی کشمیر میں عسکریت پسندوں کے ہاتھوں 11م شہری مارے جا چکے ہیں۔انہوں نے مقامی عسکریت پسندوں سے ہتھیار چھوڑنے کی اپیل کرتے ہوئے، ڈی جی پی نے کہا کہ وہ نہ صرف اپنی جانیں گنواتے ہیں، بلکہ وہ اپنے والدین، معاشرے اور لوگوں کے خلاف بھی کام کر رہے ہیں، اور ہر کوئی تشدد سے متاثر ہوتا ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر کے اپنے حالیہ دورہ کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی اس اپیل کو دہرایا کہ وادی کشمیر کے نوجوانوں کو بندوقوں اور پتھروں کے بجائے ہاتھوں میں کتابیں اٹھانی چاہئیں اور اپنے مستقبل کی تعمیر کرنا چاہئے اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی خوشحالی اور ترقی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ آج بہت سے بچوں نے اس تقریب میں شرکت کی ہے جو کہ امن اور ترقی کی طرف لوگوں کا ایک مثبت قدم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپنے والدین اور معاشرے کے خلاف مت جائیں۔ اس تشدد نے وادی کے ہر شہری میں خوف اور پریشانی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ڈی جی پی نے کہا، ’’میرا ایک ہی پیغام ہے کہ آپ کی اور معاشرے کی بہتری ہتھیار اٹھانے سے نہیں ہوگی، بلکہ قلم، کتاب اور اپنے والدین اور معاشرے کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہوگی۔‘‘










