باہر سے درآمد ذبح شدہ گوشت بند کیا جائے،مقامی مرغ و گوشت خریدنے پرمتحدہ مجلس علماء کا زور

سرینگر// یو این ایس / متحدہ مجلس علماء (ایم ایم یو) نے وادی کشمیر میں ہوٹل اور ریسٹورنٹ مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر سے باہر سے لائے گئے ذبح شدہ مرغ اور گوشت کی خرید و فروخت بند کریں اور ان اشیاء کو مقامی سطح پر حاصل کریں۔یہ اپیل سرینگر میں مفتی اعظم ناصر الاسلام کی صدارت میں منعقدہ ایک اہم اجلاس کے دوران سامنے آئی، جس میں کئی ممتاز علماء اور دینی اسکالرز نے شرکت کی۔ اجلاس میں وادی میں باہر سے درآمد شدہ گوشت اور مرغیوں کے ذبح کے شرعی طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔مفتی ناصر الاسلام نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجلس علماء کو متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ وادی میں درآمد کیے جانے والے ذبح شدہ مرغ اور گوشت اکثر اوقات شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہوتے اور ممکنہ طور پر ’’حرام‘‘ گوشت وادی میں فروخت ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہوٹل مالکان، ریسٹورنٹ مالکان اور مہمان نوازی کے شعبے سے وابستہ افراد سے گزارش ہے کہ وہ فوراً باہر سے آنے والے ذبح شدہ مرغ کا استعمال بند کریں اور صرف مقامی طور پر دستیاب، شریعت کے مطابق ذبح کیا گیا گوشت اور مرغ استعمال کریں۔ مفتی اعظم نے مزید کہا کہ یہ صرف ایک مذہبی ذمہ داری نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے کہ ہم اپنے گھروں، ہوٹلوں اور دکانوں میں صرف ’’حلال‘‘ گوشت و مرغ استعمال کریں۔اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ وادی میں گوشت و مرغی کی سپلائی چین کی نگرانی کریں تاکہ اسلامی اصولوں کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے، اور مقامی حلال گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔مجلس علماء نے وادی کے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ باہر سے آنے والے مشکوک گوشت و مرغ کے استعمال سے گریز کریں اور صرف قابل اعتماد مقامی ذرائع پر انحصار کریں۔