سید تجمل اسلام نے نیشنل کانفرنس حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا لگایا الزام
سرینگر/وی او آئی//جموں و کشمیر کے لیے حال ہی میں منظور شدہ10,637 کروڑ روپیکے ترقیاتی پیکیج میں بانڈی پورہ کے اہم منصوبوں کو نظر انداز کیے جانے پر مقامی باشندوں میں گہری مایوسی پائی جاتی ہے۔ اس صورتحال پر پی ڈی پی بانڈی پورہ کے حلقہ انچارج اور سوشل میڈیا ہیڈ سید تجمل اسلام نے شدید رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے دعووں کو “جھوٹ کا پلندہ” قرار دیا اور کہا کہ عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔سید تجمل اسلام نے واضح کیا کہ “یہ منصوبے راتوں رات تیار نہیں ہوئے، بلکہ سابقہ مخلوط حکومتوں نے ان پر کام کیا تھا۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ “عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے کہ راتوں رات یہ منصوبے منظور ہوئے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے یہ دعوے جھوٹ کا پلندہ ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ این سی یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ منصوبے ان کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔انہوں نے خاص طور پر بانڈی پورہ اور گریز روڈ کے ساتھ ساتھ بانڈی پورہ-سری نگر روڈکا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان سڑکوں کو نیشنل ہائی وے کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ سید تجمل اسلام نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کے بانڈی پورہ کے ممبران اسمبلی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ان کے دعووں کا کوئی جواز نہیں ہے۔سید تجمل نے کہا کہ این سی کے رہنما صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ی یی ڈی پی رہنما نے مزید کہا کہ بانڈی پورہ کے عوام اپنے دیرینہ مطالبات کی تکمیل چاہتے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اترے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی پیکیج میں بانڈی پورہ کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ سید تجمل اسلام نے مطالبہ کیا کہ حکومت بانڈی پورہ کے نظر انداز کیے گئے منصوبوں پر فوری توجہ دے اور انہیں منظور شدہ پیکیج میں شامل کرے۔










