کولگام میں پولیس نے منشیات فروش کی جائیداد کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ضبط کرلیا
سرینگر//شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس نے بدنام زمانہ منشیات فروش کی جائیداد قرق کرلی ہے جس کے بارے میںبتایا گیا ہے کہ ملزم نے یہ جائیداد منشیات کے کاروبار سے حاصل کی تھی ۔ادھر جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام میں بھی ایک منشیات فروش کی جائیداد کو سیل کردیا گیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائی کو جاری رکھتے ہوئے بارہمولہ میں پولیس نے ایک منشیات فروش کی جائیداد کو قرق کرلیا ہے ۔ ذرائع نے اس سلسلے میں بتایا کہ جموں و کشمیر پولیس نے جمعہ کو بارہمولہ ضلع میں ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کی ’’غیر قانونی جائیداد‘‘منسلک کر لی۔پولیس نے بتایا کہ ایک دو منزلہ رہائشی مکان جس کی مالیت 24 لاکھ روپے ہے منشیات فروش محمد زاہد شاہ عرف گیلانی سے تعلق رکھنے والی جائیداد کو مبینہ طور پر ملزم نے منشیات کے کاروبار کے پیسے سے حاصل کرلی تھی ۔ پولیس نے مطابق یہ کارروائی این ڈی پی ایس ایکٹ 1985کے تحت انجام دی گئی اور اس سلسلے میں اوڑی پولیس سٹیشن میں پہلے ہی ایف آئی آر درج تھی ۔ دریں اثنا ء پولیس نے ایک بار پھر لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ضلع میں منشیات کے خاتمہ کیلئے پولیس کی مدد کریںاور ایسے افراد کی شناخت کیلئے آگے آئیں جو سماج میں اس بدعت کو بڑھانے میں رول اداکررہے ہیں ۔ دریں اثناء کولگام میں پولیس نے آج ایک منشیات فروش کی جائیداد کو این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت ضبط کرلیا۔پولیس کے بیان کے مطابق، ہرگام محلہ نیپورہ میربازار میں 916.75 مربع فٹ کی جائیداد NDPS ایکٹ 1985 کے سیکشن 68-F (2) کے تحت منسلک ہے۔پولیس وائس آف انڈیا کے نمائندے غلام نبی کھانڈے کو بتایا کہ منسلک جائیداد ایک بدنام زمانہ منشیات فروش نثار احمد کھانڈے ولد بشیر احمد کھانڈے ساکنہ نیپورہ قاضی گنڈ کی ہے۔کولگام پولیس کی طرف سے کی گئی تحقیقات/انکوائری کے دوران جائیداد کو غیر قانونی طور پر حاصل کیا گیا تھا۔پولیس نے کہا کہ یہ جائیداد پہلی نظر میں مالک کی طرف سے منشیات اور سائیکوٹرپک مادوں کی غیر قانونی اسمگلنگ سے حاصل کی گئی تھی۔










