سری نگر// جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اسمبلی کمپلیکس سری نگر میںایسٹمیٹس کمیٹی کی میٹنگ آج چیئرپرسن شمیم فردوس کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں جموںوکشمیر میںجاری واٹر سپلائی سکیموں ( ڈبلیو ایس ایس )کی پیش رفت اورجل شکتی محکمہ کے کام کاج کاجائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمیٹی کے اَراکین عبدالمجید بٹ (لارمی)، غلام محی الدین میر، پون کمار گپتا، اعجاز جان، ڈاکٹر شفیع احمد وانی، چندر پرکاش گنگا، پیارے لال شرما اور اَرجن سنگھ راجو نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر موجود سینئر اَفسران میں فائنانشل کمشنر و ایڈیشنل چیف سیکرٹری جل شکتی محکمہ شالین کابرا ،ڈائریکٹر جنرل اکائونٹس اینڈ ٹریجریز فیاض اے لون،مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن( جے جے ایم) خورشید احمد شاہ اور فائنانس و پلاننگ کے ڈائریکٹران کے علاوہ کشمیر و صوبہ جموں کے چیف اِنجینئران شامل تھے۔چیئرپرسن شمیم فردوس نے ہر گھر تک محفوظ اور مناسب مقدار میں پینے کے پانی کی فراہمی پر زور دیا۔ اُنہوں نے دیہی اور شہری علاقوں میں بلا تعطل پائپ کے ذریعے پانی کی سپلائی، پانی کے معیار کی جانچ اور وسائل کے دیرپا اِستعمال کو اہم قرار دیا۔اُنہوں نے پرانے اورناکارہ پائپوں کو فوری تبدیل کرنے، پانی کے نمونوں کی باقاعدہ جانچ اور مختلف محکموں بالخصوص محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کے ساتھ بہتر تال میل پر زور دیا تاکہ کاموں کی تکمیل کے دوران رابطے میں رُکاوٹوں سے بچا جا سکے۔خصوصی مدعو رُکن سلمان ساگرنے پانی کی قلت والے علاقوں کی نشاندہی اور خصوصی فنڈنگ کی ضرورت پر زور دیا۔چیئرپرسن نے جل جیون مشن کے تحت فنڈز کے مؤثر اِستعمال اور سخت نگرانی پر زور دیا اور تمام جاری منصوبے بروقت مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اُنہوں نے بند یا ناکارہ چشموں اور آبی ذرائع کی بحالی کو بھی ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے پر زور دیا۔کمیٹی نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ عوامی شکایات کا فوری اَزالہ کریں، جاری منصوبوں کا باقاعدگی سے معائینہ کریں اور پانی کے بحران سے دوچار علاقوں کو فوری ریلیف فراہم کریں۔ دورانِ میٹنگ فائنانشل کمشنر شالین کابرا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ جموں و کشمیر میں 3,253 سکیموں کے تحت کل 6,897 سول ورک الاٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 6,887 پر کام شروع ہو چکا ہے اور31 ؍مئی 2025 تک 3,596 کام مکمل ہوچکے ہیں۔کمیٹی نے فیصلہ لیاکہ وہ کلیدی محکموں کی کارکردگی پر نظر رکھے گی اور بجٹ تخمینے، نظرثانی شدہ فنڈز اور اصل اَخراجات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی تاکہ ترقیاتی کاموں میں شفافیت اور جوابدہی یقینی بنائی جا سکے۔اِس سے قبل سیکرٹری قانون ساز اسمبلی منوج کمار پنڈتانے میٹنگ کے ایجنڈے پر روشنی ڈالی۔










