The sports stadium established in 1962 in Anantnag is in a dilapidated condition

اننت ناگ میں 1962میں قائم کیا گیا سپورٹس سٹیڈیم خستہ حالی کا شکار

بچوں کو کھیل کود کی سرگرمیاں جاری رکھنے میں مشکلات ، اعلیٰ حکام سے اپیل

سرینگر//اننت ناگ میں سٹھ برس پہلے ایک سپورٹس سٹیڈیم کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تاہم تب سے آج تک یہ کافی خستہ ہوچکا ہے اور انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کی جانب سے اس طرح کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے جس کی وجہ سے ایک بڑی آبادی کے بچے اس کھنڈرات نما کھیل کے میدان میں کھیل سرگرمیاں جاری رکھنے پر مجبور ہے ۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق جنوی کشمیر کے ضلع اننت میں 1962میں سپورٹس سٹیڈیم بنایا گیا تھا اور تب سے آج تک یہ کافی خستہ ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ضلع بھر کے بچے اس کھنڈرات نماء کھیل کے میدان میں کھیلنے پر مجبور ہے ۔60سے زائد عرضہ گزر جانے کے باوجود نہ کرسیاں ، نہ ہی فنسنگ ہے اور ناہی دیگر بنیادی سہولیات ہے ۔ جب سے بنا ہے اسی پوزیشن میں آج بھی ہے ۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ کھیل کا میدان ضلع بھر میں واحد میدان ہے جو بچوں کیلئے وقف ہے جبکہ یہ ضلع آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ضلع ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ حکام بالا تک یہ بات بار بار پہنچائی گئی اور ان سے بار بار مطالبہ کیا گیا کہ اس سٹیڈیم کی مرمت کا کام شروع کیا جائے تاہم خالی یقین دہانیوںکے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔اس سلسلے میں جب وی اوآئی نمائندے نے سپورٹس کونسل کے منیجر سے بات کی تو انہوںنے کوئی معقول جوا ب نہیں دیا ۔مقامی لوگوںنے اس سلسلے میں سیکریٹری سپورٹس اور ضلع کمشنر اننت ناگ سے لوگوں نے اپیل کی ہے کہ وہ مذکورہ سٹیڈیم کی تجدید و مرمت کیلئے فوری اقدامات اُٹھائیں۔