اننت ناگ میں دھان کی کاشتکاری کی طرف بڑھتا رجحان

ضلع میں راشن کی 70فیصدی ضرورت مقامی سطح پر پوری ہوجاتی ہے

سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ دھان کی پیداوار میں خود کفیل بنتا جارہا ہے اور ضلع میں گزشتہ بیس برسوں میں دھان کی کاشتکاری میں 70فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح سے اب ضلع میں راشن کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے باہر سے صرف تیس فیصدی چاول ہی حاصل کرنا پڑتا تھا۔ وائس آف انڈیا کے مطابق ضلع اننت ناگ ایگریکلچر 20 برس پہلے چاول 10فیصدی نکلتا تھا اور 90فیصدی راشن باہر کی ریاستوں سے حاصل کیا جاتا تھا۔ اب 70فیصدی چاول یہاں اْگایا جاتا ہے اور باقی ماندہ باہر سے لانا پڑتاہے۔ ضلع میں کاشتکاری کی طرف لوگوں کا بڑھتا رجحان ایک بہتر کل کی طرف بڑھ رہاہے۔ وی او آئی نمائندے امان ملک کے مطابق ضلع اننت ناگ میں دھیان کی پیداوار 1لاکھ 14ہزار 329 میٹرک ٹن سالانہ پیداوار تک پہنچ گئی ہے۔میوہ کاشتکاری کے ساتھ ساتھ لوگوں نے اب دھیان کی کاشت کی طر ف بھی خصوصی توجہ دینے شروع کردی ہے۔ دھان کیلئے پینری کا کام ، سچائی اور کٹائی وغیرہ میں سیزن میں صرف 20 دنوں زیادہ صرف نہیں ہورہے ہیں تاہم ضلع میں مقامی لوگوں کی جانب سے ان بیس دنوں کے کام کیلئے بھی باہر کے مزدوروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان دنوں میں غیر مقامی مزدوروں پر ضلع میں کروڑوں روپے بطور مزدوری دی جاتی ہے جو کہ وادی سے باہر رقم چلی جاتی ہے۔ بیس برس پہلے مقامی لوگ ہی دھان کی کاشتکاری کرتے تھے اور یہ کروڑوں روپے بھی وادی میں ہی رہتے تھے لیکن جس قدر کاشتکاری کی طرف لوگوں کا رجحان بڑھتا جارہا ہے مقامی لوگ غیر مقامی مزدوروں پرانحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح سالانہ ایک شہری 800 گرام مشروم کھاتا ہے۔ 1750میٹرک ٹن خرچ ہوتا ہے جس پر 342 کروڑ رپے خرچہ ہوجاتا ہے۔ اگر مقامی سطح مشروم کی کاشتکاری کی طرف کم ہی توجہ دی جاتی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمہ کے چیف ایگریکلچر آفیسر اننت ناگ اعجاز احمد نے نمایندے کو بتایا کہ محکمہ کے پاس کئی سکیمیں موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرکے لوگ مقامی سطح پر مشروم کی کاشت کرسکتے ہیں اور اس کیلئے زیادہ زمین کی ضرورت بھی نہیں ہوتی کیوںکہ مشروم کی کاشت اندر کے کمروں میں بھی کی جاسکتی ہے۔