supreme court

اسکول کی کتابیں کارٹونوں کی جگہ نہیں، سپریم کورٹ کا این سی ای آر ٹی کیس میں ایک اہم بیان

جمعہ کو سپریم کورٹ نے این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں کارٹون اور طنزیہ مواد کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ اسکول کی نصابی کتابیں کارٹون کے لیے مناسب جگہ نہیں ہیں۔ عدالت نے سپریم کورٹ کی سابق جج اندو ملہوترا کی سربراہی میں ایک کمیٹی کو اس معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے این سی ای آر ٹی کی کچھ نصابی کتابوں میں کارٹون کی موجودگی پر اعتراض کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عام طور پر کارٹونز پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اسکول کی نصابی کتابوں میں ان کے استعمال کو مناسب نہیں سمجھا جا سکتا کیونکہ وہ چھوٹے اور متاثر کن بچے پڑھتے ہیں۔
تشار مہتا نے کہا، “کتابیں ایسی جگہ نہیں ہیں جہاں کارٹون استعمال کیے جائیں۔” اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا طنز اور طنز جیسی چیزیں ا سکول کے نصاب کا حصہ ہونی چاہئیں۔ عدالت نے اس دلیل سے اتفاق کیا اور کہا کہ این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں میں کارٹون اور طنزیہ مواد کی مناسبیت کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی اس معاملے پر غور کرے گی۔ تاہم سپریم کورٹ نے اپنے سابقہ ​​فیصلوں کا حوالہ بھی دیا۔’انڈیبیلی کریٹیو پرائیویٹ لمیٹڈ بمقابلہ مغربی بنگال حکومت‘ کے 2020کیس میں، عدالت نے کہا تھا کہ طنز کو حد سے زیادہ حساس نقطہ نظر سے نہیں بلکہ ایک سمجھدار شخص کے نقطہ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ طنز میں خیالات کا فوری اور مؤثر انداز میں اظہار کرنے کی خصوصی صلاحیت ہوتی ہے اور آزادی اظہار پر حد سے زیادہ پابندیاں عوامی بحث کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یہ معاملہ اس تنازع سے متعلق ہے جو 8ویں جماعت کی سوشل سائنس کی کتاب میں عدلیہ سے متعلق ایک باب پر شروع ہوا تھا۔ فروری میں شروع ہونے والے تنازعہ میں، کتاب کے ایک حصے میں عدلیہ میں بدعنوانی کا ذکر کیا گیا، جس کا سپریم کورٹ نے از خود نوٹس لیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ مواد عدلیہ کے وقار کو متاثر کرتا ہے۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’آج تک‘)