جعلی نوکری، زمین سکینڈل میں چارج شیٹ فائل

جعلی نوکریوں کے دو بڑے فراڈ بے نقاب

عدالتوں میں ملزماں کے خلاف فرد جرم داخل،صفر برداشت پالیسی کا اعادہ

سرینگر: کرائم برانچ کشمیر نے نوکری فراڈ کے خلاف اپنی مہم کو مزید تیز کرتے ہوئے دو بڑے معاملات میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ایک جانب اسپیشل کرائم وِنگ نے سرکاری نوکری دلانے کے نام پر لاکھوں روپے کی دھوکہ دہی کے کیس میں چارج شیٹ داخل کی ہے، تو دوسری جانب اکنامک آفنسز وِنگ نے جعلی ریلوے بھرتی گھوٹالے میں3 ملزمان کے خلاف عدالت میں فردِ جرم پیش کر دی ہے۔اکنامک آفنسز وِنگ کرائم برانچ کشمیر نے ایف آئی آر نمبر 08/2025 کے تحت جعلی ریلوے بھرتی گھوٹالے میں تین ملزمان کے خلاف معزز عدالت جوڈیشل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس، بیروہ، بڈگام میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ یہ چارج شیٹ دفعہ 420، 468، 471 اور 120-B آئی پی سی کے تحت پیش کی گئی ہے۔ملزمان کی شناخت عبدالحمید شیخ ولد غلام محی الدین شیخ ساکن چیودارہ، بیروہ، بڈگام؛ عادل شاہ ولد عبدالرشید شاہ ساکن سونہ وار، سرینگر (عارضی رہائش زیوان)؛ اور مفتی غلام حسن کمار ولد محمد اشور کمار ساکن ہِب ڈنگرپورہ، سوپور (عارضی رہائش رتسونہ، بیروہ، بڈگام) کے طور پر کی گئی ہے۔یہ کیس ایک تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا کہ عبدالحمید شیخ اور عادل شاہ نے شکایت کنندہ کو ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، نئی دہلی کے جعلی تقرری نامے فراہم کیے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ ان جعلی تقرری خطوط پر ڈی جی ایم، نادرن ریلوے، پہاڑ گنج نئی دہلی کی فرضی مہریں اور دستخط درج تھے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ شکایت کنندہ مفتی غلام حسن کمار خود بھی اس جرم میں ملوث تھا۔ تفتیش میں ثابت ہوا کہ اس نے دیگر متاثرین سے بھی نوکری دلانے کے جھوٹے وعدے پر رقم وصول کی اور انہیں جعلی تقرری احکامات جاری کیے۔ شواہد کی بنیاد پر تینوں کو ایک منظم سازش کے تحت فراڈ میں ملوث پایا گیا، جس کے بعد دفعہ 173 سی آر پی سی کے تحت حتمی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔دوسری جانب، کرائم برانچ کشمیر کی اسپیشل کرائم وِنگ نے نوکری فراہم کرنے کے نام پر دھوکہ دہی کے ایک اور معاملے میں ایف آئی آر نمبر 05/2020 زیر دفعہ 420 آر پی سی کے تحت مظفر احمد شاہ ولد شمس الدین شاہ ساکن سالورہ، گاندربل (حال رہائش کوآپریٹو کالونی، پیرباغ) کے خلاف معزز عدالت سب جج 13ویں فنانس، سرینگر میں چارج شیٹ داخل کی ہے۔اس کیس میں الزام ہے کہ ملزم نے شکایت کنندگان اور ان کے رشتہ داروں کو سرکاری نوکری دلانے کے جھوٹے وعدے پر 5 لاکھ 50 ہزار روپے ہتھیا لیے۔ تفتیش کے دوران ٹھوس شواہد سامنے آئے جن سے ثابت ہوا کہ ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو گمراہ کر کے ان کی محنت کی کمائی حاصل کی۔کرائم برانچ کشمیر، بشمول اسپیشل کرائم وِنگ اور اکنامک آفنسز وِنگ، نے نوکری فراڈ اور دیگر معاشی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے روزگار نوجوانوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے والے عناصر کے خلاف سخت، شفاف اور غیر جانبدارانہ کارروائی جاری رہے گی۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جعلی نوکریوں کے جھانسوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔