کشمیر کی گرم جوشی اور مہمان نوازی سے بے حد متاثر//اجیت بجاج
سرینگر : جموں و کشمیر کو بھارت کا مہم جوئی کا مرکز(ایڈونچر کیپیٹل) قرار دیتے ہوئے ایڈونچر ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر اجیت بجاج نے کہا ہے کہ ایسوسی ایشن مقامی شراکت داروں اور حکومت کے ساتھ مل کر خطے کو عالمی سطح پر ایڈونچر سیاحت کے ایک بڑے مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے کام کرے گی۔سرینگر میں اے ٹی او اے آئی کی 17ویں سالانہ کانفرنس کے اختتام پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اجیت باجاج نے کہا محفوظ، پائیدار اور لچکدارمہم جوئی سیاحت(سیف، سسٹین ایبل اینڈ ریزیلینٹ ایڈونچر ٹورازم)کے عنوان سے منعقدہ اس کنونشن کو ملک بھر سے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔انہوں نے کہا’’ہم نے ایک شاندار کنونشن منعقد کیا اور کشمیر کی گرم جوشی اور مہمان نوازی سے بے حد متاثر ہوئے ہیں۔‘‘اجیت بجاج نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کے اراکین نے پہلگام، گلمرگ اور سونمرگ کا دورہ کیا، جہاں کے قدرتی حسن اور ایڈونچر امکانات نے سب کو متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا’’جموں و کشمیر واقعی بھارت کی ایڈونچر منزل ہے اور ہم حکومت کے ساتھ مل کر یہاں زیادہ سے زیادہ ایڈونچر سیاحوں کو لانے کے خواہاں ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اے ٹی او اے آئی نے مقامی ایڈونچر آپریٹرز کے ساتھ بزنس ٹو بزنس سیشن منعقد کیے، تاکہ براہِ راست کاروباری روابط قائم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا’’ ملک کے مختلف حصوں سے آئے ایڈونچر آپریٹرز نے یہاں کے مقامی آپریٹرز سے ملاقات کی اور شراکت داری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ ہمارا مقصد ایسا نیٹ ورک تیار کرنا ہے جس سے مقامی کاروبار کو قومی اور بین الاقوامی سیاحتی آمد سے براہِ راست فائدہ پہنچے۔‘‘اے ٹی او اے آئی کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ایسوسی ایشن وزارتِ سیاحت، حکومتِ ہند کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے تاکہ جموں و کشمیر میں سیاحت کی بحالی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔انہوں نے کہا’’یہ خطہ ہمارے سیاحتی شعبے کا تاج ہے۔ یہاں حالات مکمل طور پر معمول پر ہیں، اور ہم نے خود اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ ہمیں اپنے سیکیورٹی اہلکاروں پر فخر ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ جلد از جلد بڑی تعداد میں سیاح دوبارہ جموں و کشمیر کا رخ کریں۔‘‘کانفرنس میں شریک اے ٹی او اے آئی کے ایک اور مندوب، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر آتے رہے ہیں، نے کہا کہ خطے کے بارے میں عدم تحفظ کے تاثر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا’’میں گزشتہ 35 برسوں سے کشمیر آ رہا ہوں اور مجھے یہاں جتنا تحفظ محسوس ہوا، شاید کہیں اور نہیں ہوا۔ یہاں کی مہمان نوازی اور گرمجوشی بے مثال ہے۔’‘‘ بجاج نے امید ظاہر کی کہ سال 2026 کشمیر سیاحت کے لیے ایک شاندار سال ثابت ہوگا۔اجیت باجاج نے اس موقع پر ایڈونچر سیاحت کے لیے مختلف علاقوں کو مرحلہ وار دوبارہ کھولنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ تمام ایڈونچر زونز کو آہستہ آہستہ کھولا جائے۔ مقامی لوگ خوش آمدید کہنے والے ہیں، پہاڑ شاندار ہیں اور کشمیر میں وہ سب کچھ موجود ہے جو اسے عالمی معیار کی ایڈونچر منزل بناتا ہے۔‘‘










