کہا،ہمارا مشن ان کنبوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہے جنہیں جان بوجھ کر اِنصاف سے محروم رکھا گیا تاکہ وہ معاشرے کی ہمہ جہت ترقی اور قوم کی تعمیر میںاَپنا رول اَدا سکیں
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کے روز جموں ڈویژن میں دہشت گردی کے متاثرہ اَفراد کے 41 قریبی رشتہ داروں کو تقرری نامے حوالے کئے۔ ہمدردانہ بنیادوں پر عمر میں رعایت کے معاملات میں 22 مستفیدین اور ایس آر او ۔43اوررِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم ( آر اے ایس) کے تحت جموں و کشمیر پولیس شہدأ کے 19 بچوں کوبھی تقرری نامے دئیے گئے۔ کو بھی دیے گئے۔اِس سے قبل لیفٹیننٹ گورنر نے 28؍ جولائی 2025 ء کوجموں ڈویژن کے 94دہشت گردی متاثرہ کنبوں کے اَفراد کو تقرری نامے دئیے تھے۔ اِس اَقدام سے جموںڈویژن کے 135دہشت گرد متاثرہ کنبوں کو راحت ملی ہے جنہیں دہائیوں تک اِنصاف سے محروم رکھا گیا تھا۔دہشت گردی کے متاثرین کے کنبے بے خوف ہو کر سامنے آئے، دہشت اور مشکلات کے کئی دہائیوں کے قصے سنائے اور پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردوں اور اُن کے مقامی حمایتوں کا پردہ فاش کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میںشہری شہدأ کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں کے غم میں شریک ہوئے۔اُنہوں نے کہا،’’دہشت گردی کے متاثرہ کنبے دہائیوں تک خاموشی میں جدوجہد کرتے رہے۔ ان کنبوں کو اِنصاف نہیں ملا۔ گہرے زخم کبھی نہیں بھرے۔ اَب ایسے کنبوں کو تسلیم کیا جا رہا ہے، اُن کا احترام کیا جا رہا ہے اوراُن کی بحالی کی جارہی ہے۔‘‘
منوج سِنہا نے کہا ،’’دہشت گردی کے حقیقی متاثرین اور حقیقی شہدٔ کو ملازمتیں اُس عزم کی عکاستی کرتی ہیں کہ قوم اُن کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ یہ ان کنبوں کی عزتِ نفس اور معاشی تحفظ کو بحال کرنے کا عزم ہے جنہوں نے سب سے بڑی قربانی دی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہمارا مشن ان کنبوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا ہے جنہیں جان بوجھ کر انصاف سے محروم رکھا گیا تاکہ وہ معاشرے کی ترقی اور قوم کی تعمیر میں اَپنارول اَدا کر سکیں۔اُنہوں نے کہا،’’سرکاری ملازمت کے تقرری نامے 41 دہشت گردی کے متاثرہ کنبوں، 22 عمر میں رعایت کے معاملات اور 19 جموں وکشمیر پولیس شہدأکے بچوں کوتقرری نامے دے کر ہم نے اَپنا وعدہ پورا کیا ہے۔‘‘
منوج سِنہا نے کہاکہ 20 برس کی طویل اِنتظار کے بعد نصیب سنگھ اور اس کے کنبہ کی تکلیف اور دُکھ بالآخر ختم ہوگیا ہے۔اُنہوں نے 28 ؍جون 2005 ء کے دِل دہلانے دینے والا واقعے کا ذکر کیاجب نصیب سنگھ کے والد دھرم سنگھ اور راجوری کے کوترانکا علاقے کے چار دیگر افراد کو دہشت گردوں نے بے رحمی سے قتل کیاتھا۔ دو دہائیوں تک نصیب سنگھ اور اس کا کنبہ مسلسل خوف، عدم تحفظ اور اذیت میں رہا۔ اَب اُن کی زِندگی میں اُمید کی نئی صبح طلوع ہوئی ہے۔لیفٹیننٹ گورنرنے مزید کہا،’’ریاسی کے رہائشی اختر حسین کو 13 ؍جولائی 2005 ء کو دہشت گردوں نے گولی مار کرہلاک کیا تھا ۔ اُس کی بیوی اور بچوں نے دو دہائیوں تک سخت مشکلات برداشت کیں جس نے ان کی زندگی پر گہرا زخم چھوڑا۔اِسی طرح 15 ؍نومبر 2004 ء کو ایس پی او سنجیت کمار کو اُن کے دوست کے ساتھ بالن ٹنڈوا کشتواڑ میں دو دہشت گردوں نے اس وقت قتل کر دیا جب وہ ایک پڑوسی کی شادی کی تیاری کر رہے تھے۔اُنہوںنے کہا،’’یہ کنبے ناقابل بیان غم کا بوجھ اُٹھائے ہوئے تھے۔ اب، یہ نئی شروعات انہیں وقار کے ساتھ اپنی زندگی دوبارہ گزارنے کا موقع دے گی۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی قیادت میں ہم دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو ختم کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ہم نے امن نہیں خریدا بلکہ امن قائم کیا ہے۔ بداِنتظامی کے دن ختم ہو چکے ہیں۔ اَب دہشت گردوں، علیحدگی پسندوں اور اُن کے سرپرستوں کو سرکاری نوکریاں نہیں ملتیں بلکہ انہیں شناخت کر کے سخت سے سخت سزا دی جا رہی ہے۔‘‘
منوج سِنہانے کہا کہ مرتے ہوئے دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام کے کچھ عناصر ہیں جو ملک کے خلاف غلط معلومات یا منفی بیانیے پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم ایسے عناصر کے خلاف ملک کے قائم کردہ قانونی ڈھانچے کے مطابق سخت کارروائی کریں گے۔اُنہوں نے کہا،’’جو لوگ علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں بے لوث عمل کے ساتھ ترقی کے مہایگیہ میں اَپنا کردار ادا کریں۔اِس موقعہ پر ڈِی جی پی نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، کمشنر سیکرٹری جی اے ڈِی یم راجو، صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار، آئی جی پی جموں بھیم سین توتی، مختلف اَضلاع کے ضلع ترقیاتی کمشنران، سینئر افسران اور دہشت گردی کے متاثرین کے اہلِ خانہ موجود تھے۔ ممبرانِ قانون ساز اسمبلی اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندگان بھی موجود تھے۔










