The Centre must fulfill the promise made to the people of Jammu and Kashmir.

عمر عبداللہ نے پی ایس سی چیئرمین کو خط لکھا، امتحان موخر کرنے کی اپیل

عمر حکومت نے عمر کی رعایت کا فائل ایل جی کو بھیجا، تنازعہ شدت اختیار کر گیا

سرینگر//وی او آئی//جموں و کشمیر میں عمر کی رعایت کے معاملے پر ایک دن قبل ہی سیاسی اور انتظامی سطح پر کشمکش دیکھنے کو ملی۔ چیف منسٹر عمر عبداللہ نے ہفتہ کو جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) کے چیئرمین ارون کمار چودھری کو خط لکھ کر اتوار، 7 دسمبر کو ہونے والے کمبائنڈ کمپٹیٹیو (پریلیمنری) امتحان 2025 کو موخر کرنے کی اپیل کی۔ سرکاری مکتوب (PS/HCM/D.O/2025/239) میں عمر عبداللہ نے دلیل دی کہ جاری فضائی خدمات میں خلل کی وجہ سے وسیع پیمانے پر سفر میں بدنظمی پیدا ہوئی ہے، جس کے ساتھ عمر کی رعایت کے معاملے پر تاخیر نے امیدواروں کو شدید ذہنی اور عملی دباو میں ڈال دیا ہے۔ خط کے بعد وزیر اعلیٰ کے دفتر کے ایکس ہینڈل پر پوسٹ سامنے آئی جس میں براہِ راست لوک بھون کو عمر کی رعایت میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ سرکاری خط میں لوک بھون کا ذکر نہیں تھا، لیکن سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح طور پر الزام لگایا گیا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ امتحان کو موخر کرنا انصاف، مساوات اور تمام امیدواروں کے لیے برابر مواقع کے اصولوں کے مطابق ہوگا۔” وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی قومی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عمر کی رعایت کا معاملہ، جو اس وقت ایل جی کی منظوری کے انتظار میں ہے، حل نہیں ہوتا، امتحان کو مو?خر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ فائل اس ہفتے ایل جی کو بھیجی گئی تھی، جسے بعد میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو کچھ سوالات کے ساتھ واپس کیا گیا اور اب پی ایس سی سے رائے طلب کی گئی ہے۔ اس معاملے پر دیگر سیاسی رہنماو?ں نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ – محبوبہ مفتی نے کہا کہ امیدوار سرد موسم میں سڑکوں پر انصاف مانگ رہے ہیں اور حکومت کو فوری طور پر مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ – محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ عمر کی رعایت پر فیصلہ زیر التوا ہے اور ایسے میں امتحان لینا امیدواروں کو نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے فضائی پروازوں کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی امیدوار پھنسے ہوئے ہیں، اس لیے امتحان مو?خر ہونا چاہیے۔ امتحان سے ایک دن قبل یہ صورتحال امیدواروں کے لیے شدید غیر یقینی اور الجھن کا باعث بنی رہی، جبکہ عمر کی رعایت کے خواہشمند امیدوار اب بھی فیصلے کے منتظر ہیں۔