سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے گمراہ کن قرار، عمر رعایت سے متعلق فائل کی تصدیق
سرینگر//وی او آئی//لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جے کے پی ایس سی امتحان سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی پوسٹس گمراہ کن ہیں اور حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ 2 دسمبر 2025 کو لوک بھون کو موصول ہونے والی فائل صرف عمر کی رعایت سے متعلق تھی، امتحان کے انعقاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ فائل کو اسی روز یہ سوال اٹھا کر واپس بھیج دیا گیا کہ آیا 7 دسمبر کو امتحان لینا ممکن ہے جبکہ اہلیت کے معیار میں اتنی تاخیر سے تبدیلی کی جا رہی ہے۔ سنہا نے کہا کہ چار دن گزرنے کے باوجود متعلقہ فریق کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے نوجوان امیدواروں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یاد دلایا کہ امتحان کا اشتہار جے کے پی ایس سی نے 22 اگست 2025 کو جاری کیا تھا اور امتحان کی تاریخ 6 نومبر 2025 کو باقاعدہ طور پر نوٹیفائی کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) سے اپیل کی ہے کہ عمر کی رعایت کے معاملے میں لوک بھون کی منظوری میں تاخیر کے باعث پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کامبائنڈ کمپیٹیٹو ایگزامینیشن (سی سی ای) کو مؤخر کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ جاری فضائی خلل اور عمر کی رعایت میں تاخیر نے امیدواروں کو غیر معمولی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔جبکہ وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے بھی کہا کہ امتحان کو اس وقت تک مؤخر کیا جانا چاہیے جب تک عمر کی بالائی حد میں رعایت کے معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر کی منظوری نہیں مل جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس سلسلے میں فائل لوک بھون کو بھیجی تھی، جو بعد میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو کچھ سوالات کے ساتھ واپس بھیجی گئی اور اب جے کے پی ایس سی سے رائے طلب کی گئی ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بھی لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مسئلے کو فوری طور پر حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ امیدوار سخت سردی میں سڑکوں پر نکلے ہیں اور ان کا مطالبہ صرف انصاف اور مناسب امتحانی شیڈول ہے۔ سینئر سی پی آئی (ایم) رہنما اور ایم ایل اے کولگام ایم وائی تاریگامی نے کہا کہ عمر کی رعایت کے فیصلے کے زیر التوا رہنے کے باوجود امتحان لینا امیدواروں کو واضح نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امتحان کو اس وقت تک مؤخر کیا جانا چاہیے جب تک منظوری کا عمل مکمل نہ ہو۔ تاریگامی نے فضائی پروازوں میں خلل کا بھی حوالہ دیا، جس کی وجہ سے کئی امیدوار باہر سے آ کر امتحان میں شامل نہیں ہو سکے۔ ان بیانات کے رد عمل میں آج ایل جی موصوف نے کہا کہ جے کے پی ایس سی امتحان سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کئی پوسٹس گمراہ کن ہیں اور حقائق کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ 2 دسمبر 2025 کو لوک بھون کو موصول ہونے والی فائل صرف عمر کی رعایت سے متعلق تھی، امتحان کے انعقاد سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ فائل کو اسی روز یہ سوال اٹھا کر واپس بھیج دیا گیا کہ آیا 7 دسمبر کو امتحان لینا ممکن ہے جبکہ اہلیت کے معیار میں اتنی تاخیر سے تبدیلی کی جا رہی ہے










