عمر عبداللہ نے سکمز کے 43 ویں یوم تاسیس سے خطاب کیا

سکمز کو ہائی امپیکٹ او رہائی ویلیو پروجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت

سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں شیرِ کشمیر اِنسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایس کے آئی ایم ایس) کے 43ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کی صدارت کی۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر میں صحت کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اورٹریشری کیئر کے مضبوط نظام کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ مسعود اِیتو، وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج جاوید احمد ڈار، وزیرِاعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ڈائریکٹراے آئی آئی ایم ایس نئی دہلی ڈاکٹر ایم سری نواس جو بذریعہ ورچیول موڈ شامل ہوئے، شیرِ کشمیر مقرر ڈاکٹر مدھابانند کر، ڈائریکٹر سکمز ڈاکٹر ایم اشرف گنائی، ڈین میڈیکل فیکلٹی سکمز، پرنسپل سکمزایم سی ایچ بمنہ ڈاکٹر فضل الکیو پرے، آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر مظفر مقصود، ارکانِ قانون ساز اسمبلی، ڈائریکٹر ایس کے آئی سی سی حارث احمد ہنڈو، سینئر فیکلٹی، محققین، ڈاکٹروں، طلبأ اور صحت کے پیشہ ور اَفراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اَپنے خطاب میں کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ سکمز کو مکمل مالی مدد فراہم کی ہے اور مزید بھرپور طریقے سے جاری رکھے گی۔اُنہوں نے اعلان کیا کہ اَب نئی ایس اے ایس سی آئی فنڈنگ ونڈوکا تعارف جو پہلے صرف ریاستوں کے لئے مخصوص تھا ،اب ان کی مداخلت کے بعد اب یوٹیز تک بھی بڑھا دیا گیا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ اِس فیصلے سے جموں و کشمیر کو طویل مدتی، صفر سود والے سرمائے کے اخراجات کے قرضوں تک بے مثال رَسائی حاصل ہو گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’اس سال آخرکار ہم نے ایس اے ایس سی آئی تک رسائی کرلی۔ اس میکانزم کے تحت اَب ہم سرمایہ جاتی سرمایہ کاری کے لئے فنڈز حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک منفرد موقعہ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ سکمز(ایس کے آئی ایم ایس) اس سے مکمل فائدہ اُٹھائے۔‘‘اُنہوں نے ایس کے آئی ایم ایس اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ایک بڑا منصوبہ تیار کرے جو 2 سے 3 سال کی مدت میں مکمل ہو سکے۔
وزیراعلیٰ نے شیرِ کشمیر شیخ محمد عبداللہ کی دُوراندیشی اور ان کی دیرپا وراثت کے بارے میں تفصیل سے بات کی اور کہاکہ ان کے دور میں ایس کے آئی ایم ایس کا قیام ایک ایسا ویژنری عمل تھاجس کی آج بھی مثال نہیں ملتی۔اُنہوں نے کہا،’’آج بھی میں تصور نہیں کر سکتا کہ شیخ صاحب نے اُس دور میں اس پیمانے کا ادارہ کیسے تعمیر کیا۔ اگر آج کوئی مجھ سے پوچھے کہ کیا جموںوکشمیر حکومت ایس کے آئی ایم ایس جیسے کسی اور ہسپتال یا ایس کے آئی سی سی جیسے کمپلیکس کی تعمیر کر سکتی ہے، تو میں کہوں گا کہ یہ تقریباً ناممکن ہے۔‘‘وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ ایس کے آئی ایم ایس آج بھی جدید علاج کا سب سے معتبر ادارہ ہے اور ڈاکٹروں، نرسوں اور طبی عملے کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ اُنہوں نے ڈائریکٹر اے آئی آئی ایم ایس ڈاکٹر سری نواس کے حوالے سے کہا کہ ایس کے آئی ایم ایس کے قیام کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جموںوکشمیر کے مریضوں کو باہر جانے کی ضرورت نہ پڑے۔اُنہوں نے کہا ،’’ آج دہائیوں کے بعد بھی ایس کے آئی ایم ایس اس مقصد کو بہترین انداز میں پورا کر رہا ہے۔‘‘اُنہوں نے ایس کے آئی ایم ایس میں مریضوں کے غیر معمولی رَش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضلع اور ذیلی ضلع سطح پر صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا،’’لوگوں کو معمولی علاج کے لئے ایس کے آئی ایم ایس آنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا تب ہوتا ہے جب نچلے سطح کے ہسپتال مناسب سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہم دونوں محاذوں پر کام کریں گے۔ایس کے آئی ایم ایس کے لئے نئی انفراسٹرکچر سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع و ذیلی ضلع ہسپتالوں کو بھی اَپ گریڈ کریں گے تاکہ ایس کے آئی ایم ایس کا بوجھ نمایاں طور پر کم ہو۔‘‘اُنہو ںنے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم اشرف گنائی اور ایس کے آئی ایم ایس کی پوری ٹیم کو تحقیق، مریضوں کی نگہداشت اور طبی تعلیم میں اعلیٰ معیار برقرار رکھنے پرسراہنا کی۔وزیر اعلیٰ نے کہا،’’میں ڈائریکٹر اور اُن کی ٹیم کومُبارک باد پیش کرتا ہوں۔ مشکلات کے باوجود ایس کے آئی ایم ایس نے علمی، طبی اور ادارہ جاتی سطح پر غیر معمولی ترقی کی ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ ادارہ مزید ترقی کرے اور جموں و کشمیر کے عوام کو عالمی معیار کی صحت خدمات فراہم کرتا رہے۔‘‘43ویں یومِ تاسیس کی تقریب میںتعلیمی شیشنز، سینئر فیکلٹی ممبران کے خطابا ت اور ایس کے آئی ایم ایس کے بطور ایک ممتاز تحقیقاتی، تدریسی اور ٹریشری کیئر کے ادارے کے سفر پر گفتگو بھی شامل تھی۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ نے ایس کے آئی ایم ایس کی سالانہ رِپورٹ جاری کی جبکہ وزرأنے یو پی ایس سی ایم ایس کتاب اور ہسٹولوجی ایسنسیشل کی رسم رونمائی اَنجام دی۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے متعدد نئی سہولیات اور انفراسٹرکچر اَپ گریڈیشن کا اِی۔اِفتتاح بھی کیا جن میں کینسر علاج کے لیے لینیک،بنکرڈیجیٹل ایم آر ڈی، پیدیاٹرک ایمرجنسی یونٹ، ڈیجیٹل ایکسرے سروسز، 10 ایم وِی اے 33/11 کے وِی او ایل ٹی سی ٹرانسفارمر اور مریض و تیماردار پارک شامل ہیں۔