“زہر مل رہا ہے، پانی نہیں” مقامی افراد کا الزام: محکمہ کو فوری کارروائی کا مطالبہ
سرینگر//وی او آئی//سرینگر کے نواحی علاقے پادشاہی باغ میں عوامی پانی کے ٹینک سے ہفتہ کی صبح مردہ پرندے اور کیڑے برآمد ہونے پر مقامی لوگوں نے شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ مقامی افراد نے بتایا کہ ٹینک کی حالت نہایت خراب ہے اور اس میں فلٹریشن کا کوئی نظام موجود نہیں۔ “ہمیں پانی کے بجائے زہر مل رہا ہے، مردہ پرندے اور کیڑے ٹینک کے اندر پڑے ہیں،لوگوں نے الزام لگایا کہ آلودہ پانی صرف پادشاہی باغ کو فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ راج باغ، جوہر نگر، ریلوے کالونی اور نوگام جیسے علاقوں کو فلٹر شدہ پانی مل رہا ہے۔ مقامی افراد نے کہا کہ ان کے بچے بار بار بیمار ہو رہے ہیں اور بارہا شکایت کے باوجود حکام نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ متاثرہ شہری محمد انور بھٹ نے کہا کہ یہ اسکیم 1985 میں شروع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد سے مکمل طور پر نظرانداز کر دی گئی ہے۔ “سالوں سے نہ صفائی ہوئی، نہ مرمت، نہ تکنیکی جانچ۔” لوگوں نے پرامن احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فلٹریشن اور دیکھ بھال کی مکمل غیر موجودگی نے پینے کے پانی کے نظام کو تحفظ کے بجائے بیماری کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ آلودہ پانی کی مسلسل فراہمی نے خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔ مقامی آبادی نے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو صاف اور محفوظ پانی فراہم کیا جا سکے۔










