جموں و کشمیر میں پہلا ٹیکنالوجی و انرجی ریسرچ سینٹر قائم ہوگا
سرینگر/وی او آئی//جموں و کشمیر میں ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر الوانیا انرجیز 369 پرائیویٹ لمیٹڈ اور وزارت مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم ای) سرینگر کے درمیان ٹیکنالوجی اینڈ انرجی ریسرچ سینٹر کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔معاہدہ دونوں اداروں کے عہدے داران کی موجودگی میں طے پایا، جبکہ ایم ایس ایم ای کی جانب سے اجاز حسین، فیکلٹی — آٹومیشن، آئی او ٹی اینڈ روبوٹکس اور نوڈل آفیسر نے نمائندگی کی۔ یہ اشتراک عوامی و نجی شعبے کے درمیان ایک کلیدی اشتراکی شراکت داری قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد وادی میں عالمی معیار کا اختراعی اور تحقیقی ماحول قائم کرنا ہے۔یہ سینٹر قابل تجدید توانائی کی تحقیق و ترقی، اسمارٹ ٹیکنالوجیز و آٹومیشن (AI، IoT، روبوٹکس، ڈرونز)، انجینئرنگ انوویشن و پروٹو ٹائپنگ، زرعی و دیہی صاف توانائی ٹیکنالوجیز اور روزگار و کاروبار پر مبنی اسکل ڈویلپمنٹ کے شعبوں پر کام کرے گا۔ حکام کے مطابق یہ مرکز صنعت، تعلیمی اداروں، نوجوانوں، اسٹارٹ اپس اور سرکاری اداروں کے درمیان ایک مضبوط رابطہ پل ثابت ہوگا۔معاہدے کے تحت ایم ایس ایم ای سرینگر بنیادی ڈھانچے، تربیتی مقامات، تشہیر و رابطہ سازی اور مالی معاونت کی فراہمی کی ذمہ داری نبھائے گا، جبکہ الوانیا انرجیز 369 پرائیویٹ لمیٹڈ جدید تحقیقاتی لیبارٹریوں کے قیام، ریسرچ و ڈیولپمنٹ، عملی تربیتی پروگراموں، ٹیکنالوجی انکیوبیشن اور کمرشلائزیشن کے عمل کی قیادت کرے گا۔سینٹر میں مشترکہ تحقیقی منصوبے، ہیکاتھونز، نمائشیں، اختراعی سمٹس، اسٹارٹ اپ انکیوبیشن اور پیٹنٹ سہولیات کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے، جس سے خطے میں پائیدار ترقی کو مزید تقویت ملے گی۔الوانیا انرجیز 369 پرائیویٹ لمیٹڈ کے بانی و سی ای او عارف شافی کھنیاری نے اس شراکت کو وادی کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز کشمیر میں ’’ٹیکنالوجیکل ری نیسانس‘‘ کی بنیاد ثابت ہوگا، نوجوانوں اور انجینئرنگ ٹیلنٹ کو بااختیار بنائے گا اور صاف توانائی و اسمارٹ ٹیکنالوجیز کے شعبے میں جموں و کشمیر کو نئی عالمی بلندیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ معاہدہ خطے میں تحقیق، تربیت، اختراع اور کاروبار کے ایک دیرپا فریم ورک کی تشکیل کی راہ ہموار کرے گا۔










