جموں و کشمیر لاجسٹکس پالیسی 2025 جلد پیش کی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر
جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعرات کو کہا ،’’جموں تیزی سے ایک ایسے تجارتی و لاجسٹکس مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے جو لداخ اور وادیٔ کشمیر کو ملک کی تجارتی راہداریوں سے جوڑتا ہے۔‘‘ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں سڑک اور ریل رابطے میں نمایاں بہتری نے اس خطے کی بے پناہ صلاحیت کو اُجاگر کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنراِنڈین چیمبر آف کامرس (آئی سی سی ) کے زیر اہتمام منعقدہ جموں ٹریڈ اینڈ لاجسٹکس کنکلیو۔2025 سے خطاب کر رہے تھے۔اُنہوں نے اَپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میںقومی لاجسٹک پالیسی نے لاجسٹک ایکو سسٹم میں اِصلاحات کو تیز کیا ہے اور ڈیجیٹل اِنضمام، سکل ڈیولپمنٹ اور بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی میں اِنقلاب برپا کیا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’سٹوریج، ملٹی موڈل کنکٹویٹی، لاجسٹکس کی صلاحیت اور آخری میل کنکٹویٹی نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ دُور دراز اور پسماندہ علاقے بھی ترقی کے مرکزی دھارے سے جڑے رہیں۔ اِی۔ کامرس کی رَسائی اور بڑھتا ہواریٹیل سیکٹر کی ترقی نے ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے کی توسیع میں اہم کردار اَدا کیا ہے۔ جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری اس غیر معمولی تبدیلی کی زندہ مثال ہے۔‘‘اُنہوںنے جموں و کشمیر کی ترقی کی ضروریات کو سمارٹ لاجسٹک اِنفراسٹرکچر اور بہتر لاجسٹک آپریشنز کے ذریعے پورا کرنے پر زور دیا۔
منوج سِنہانے کہا، ’’ایک مضبوط سٹوریج، لاجسٹکس اور ویئر ہاؤس سسٹم ہماری معیشت کو خودانحصاری کی طرف لے جانے، پیداوار کنندگان کو روبرو صارفین سے جوڑنے اور ہمارے تاجروں، صنعت کاروں، کسانوں، دستکاروں اور ایم ایس ایم ایز کی اُمنگوں کو پورا کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔‘‘اُنہوں نے جموںوکشمیر یو ٹی کو مزید مسابقتی اور سرمایہ کاری کے لئے تیار مقام بنانے کے لئے کلیدی اقدامات کا بھی اِشتراک کیا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے کہا، ’’جموں و کشمیر لاجسٹک پالیسی 2025 جلد پیش کی جائے گی۔ یہ نئی پالیسی مداخلت ملٹی موڈل کنکٹویٹی، خشک بندرگاہوں اور ویئر ہاؤسنگ زونوں کی ترقی اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیتے ہوئے ایک جامع فریم ورک متعارف کرے گی۔ اِس کے علاوہ لاجسٹک سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے گا تاکہ اسے صنعتی پالیسی کے تمام فوائد حاصل ہوں۔‘‘اُنہوں نے کہاکہ پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان (پی ایم جی ایس۔ این ایم پی) کے تحت 3000 کروڑ روپے مالیت کے 49 بڑے لاجسٹک اور کنکٹویٹی پروجیکٹوں کو پہلے ہی میپنگ کی جاچکی ہے جو ریئل ٹائم کوآرڈی نیشن اور تیزی سے عمل درآمد میں معاون ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ مربوط منصوبہ بندی کا طریقہ کار جموںوکشمیر میں لاجسٹکس کے خلا کی نشاندہی، اِنڈسٹریل اسٹیٹس تک کنکٹویٹی کو بہتر بنانے،مال برداری کی آواجاہی کو بہتر بنانے اور لاجسٹکس کے اخراجات اور ٹرانزٹ اوقات کو نمایاں طور پر کم کرنے میں مدد کر رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ وِجے پور جموں میں ایک ملٹی موڈل لاجسٹک پارک (ایم ایم ایل پی) پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ( پی پی پی ) ماڈل کے تحت بُلڈ ۔ڈیولپمنٹ۔فائنانس ۔آپریٹ ۔ٹرانسفر (ڈِی بی ایف او ٹی) نقطہ نظر کے تحت تیار کیا جائے گا۔یہ پارک جدید سہولیات فراہم کرے گا جن میں ان لینڈ کنٹینر ڈیپو (آئی سی ڈِی)، ویئر ہاؤسنگ، کولڈ سٹوریج، ٹرک ٹرمنل اور کنٹینر فریٹ سٹیشن شامل ہیںجس کا مقصد تجارت اور لاجسٹک کارکردگی کو بڑھانا ہے۔ اِس کنکلیو میں کمشنر سیکرٹری صنعت و حرفت وِکرم جیت سنگھ،چیئرمین آئی سی سی جموں چیپٹر راہل سہائے،ریجنل ڈائریکٹر اِنڈین چیمبر آف کامرس دیبمالیا بنرجی، ٹرانسپورٹ کمشنر جے اینڈ کے ویشیش پال مہاجن، تاجر رہنما، اِنڈین چیمبر آف کامرس کے ممبران، مختلف تجارتی و کاروباری تنظیموں کے نمائندگان اور سینئر اَفسران نے شرکت کی۔










