دہلی دھماکے کے بعد کشمیری ڈاکٹر اور طلبہ سیکورٹی ایجنسیوں کی نگرانی میں

دہلی دھماکے کے بعد کشمیری ڈاکٹر اور طلبہ سیکورٹی ایجنسیوں کی نگرانی میں

والدین کی اپیل: بے گناہوں کو بلاوجہ ہراساں نہ کیا جائے

سرینگر//وی او آئی//دہلی دھماکے کے بعد کئی کشمیری طلبہ، ڈاکٹر اور دیگر پیشہ ور افراد سیکورٹی ایجنسیوں کی رڈار پر آ گئے ہیں، جس سے ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔ والدین نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ بے گناہ کشمیریوں کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے اور انہیں شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ ذرائع کے مطابق دھماکے کے بعد ایک ہزار سے زائد کشمیری طلبہ مختلف ریاستوں سے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔ فرید آباد پولیس نے دو ہزار سے زیادہ کشمیری طلبہ سے پوچھ گچھ کی ہے تاکہ کسی ممکنہ دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلقات کا پتہ لگایا جا سکے۔ اسی طرح دیگر شہروں میں بھی بڑے پیمانے پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے۔ نوہٹہ کے رہائشی جبران علی نے بتایا کہ ان کی بیٹی میرٹھ میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی ہے اور دھماکے کے بعد تمام کشمیری طلبہ کو پولیس نے تصدیق کے لئے تھانے میں بلایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری صرف ایک اپیل ہے کہ بے گناہوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔ کلثوما بانو نے کہا کہ ان کا بیٹا نوئیڈا میں ملازمت کر رہا ہے، لیکن جب بھی کشمیریوں کی گرفتاری یا پوچھ گچھ کی خبر آتی ہے تو اہلِ خانہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے آغاز کے بعد سے کشمیریوں پر ایک داغ لگ گیا ہے اور کسی بھی واقعے کے بعد ملک بھر میں انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے قومی کنوینر ناصر کھوہامی نے الزام لگایا کہ دھماکے کے بعد شمالی ریاستوں میں کشمیری طلبہ کو پروفائلنگ، بے دخلی اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم سے اپیل کی کہ اس عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔ ذرائع کے مطابق اتر پردیش میں تقریباً 200 کشمیری نڑاد ڈاکٹر اور میڈیکل طلبہ بھی نگرانی میں ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی دستہ ان کالجوں اور یونیورسٹیوں سے رابطے میں ہے جہاں کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ کانپور، لکھنؤ، میرٹھ اور سہارنپور سمیت کئی شہروں میں ان پر نظر رکھی جا رہی ہے۔