سرینگر / /وادی کے معروف ادیب، شاعر صوفی اور محقق حکیم غلام حسن شہباز کی 28 ویں برسی کے سلسلے میں منگلوار کو آروہ بیروہ میں گلشن کلچرل فورم کشمیر نے جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ کلچرل اینڈ لینگویجز کے اشتراک سے ایک پُروقار تقریب منعقد ہوئی۔ کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق تقریب کی صدارت گلشن کلچرل فورم کے صدر سید بشیر کوثر نے کی۔ معروف صوفی شاعر شیخ غلام رسول المعروف لسہ بب مہمان خصوصی تھے۔ کلچرل اکیڈیمی کا نمایندہ سید افتخار احمد اور لمبر دار آروہ عبدالسلام بھی صدارتی ایوان میں موجود تھے۔ سرکردہ قلمکار اور معلم ماسٹر غلام محمد ڈار اور گلشن بدرنی نے شہباز کی زندگی اور ادبی کارناموں پر مقالے پیش کیے۔ فورم کے سیکریٹری خورشید خاموش نے خطبہ استقبالیہ اور نظامت کے فرائض بھی انجام دیے۔ پروگرام کا ابتدا کشمیری فوک موسیقی سے ہوا معروف صوفی گلوکار غلام حسن شاہ اور انکے ساتھیوں نے شہباز کا کلام پیش کرکے سامعین کو محفوظ کیا۔ پروگرام کی دوسری نشست میں حکیم شہباز کی ادبی، علمی، ثقافتی اور طبعی شعبے میں انکی گراں قدر خدمات کو اجاگر کیا گیا۔ پیرزادہ محمد اشرف کے علاوہ کیی دیگر مقرروں اور مبصروں نے اس موقعے پر بات کی۔ تیسری نشست میں مقامی شاعروں نے مرحوم شہباز کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ اس شاعرانہ نشست میں جن شعراء نے شرکت کی ان میں مقبول شیدا، ممتاز گوپھبلی، علی محمد گوہر، عبدالاحد دلبر، غلام حسن شائق، عاشق مکہامی،محمد یوسف ملک، ادریس بدرنی، احمد بن فیاض، حکیم عبدالرحمان شہباز خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
30دن میں ایران کے خلیجی ممالک پر 5200میزائیل حملے
’آبنائے ہرمز‘ معاملہ سے ٹرمپ کے الگ ہونے پر ایران کا کھلا آفر ’ہم سے آ کر ڈیل کیجیے‘
جنگ میں کھل کر ایران کی حمایت کرنے والے اسپین پر آئی مصیبت، گھیرا بندی کی تیاری میں امریکہ
ٹرمپ کی ایران کو پتھروں کے دور میں بھیجنے کی دھمکی
پچھلے 5سالوں میں روزانہ 20سے زیادہ ہندوستانی کارکن کی بیرون ملک میں اموات :سرکاری اعداد و شمار
دہلی- این سی آر میں 462فیکٹریوں پر لٹکی تلوار، آلودگی کے سبب سی پی سی بی نے جاری کیا الٹی میٹم
نتیش کمار 10اپریل کو راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر حلف لیں گے
ایل پی جی کی قلت کے سبب کانپور کی ’بدنام قلفی‘ غائب، گرمی میں ٹھنڈی چُسکی نہ ملنے سے لوگ مایوس
کیرالہ میں وزیر اعظم مودی اور ایل ڈی ایف پر جم کر برسیں پرینکا گاندھی، پینارائی وجین کو ’مودی کی بی-ٹیم‘ قرار دیا
اے اے پی نے راگھو چڈھا کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، انہیں راجیہ سبھا میں بولنے سے روکنے کو کہا










