مینڈھر میں دو دن قبل نامعلوم افراد کے حملے میں زخمی فارماسسٹ زندگی کی جنگ ہار گیا
سرینگر / سی این آئی // سوپور منڈی میں ڈرائیور کے بطور کام کرنے والا شہری اپنی گاڑی کے اندر مردہ پانے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ۔ ادھر مینڈھر پونچھ میں نامعلوم افراد کے حملے کے 2 دن بعد پہلے زخمی فارماسسٹ اسپتال میں زندگی کی زندگی ہار گیا ۔ سی این آئی کے مطابق شمالی کشمیر کے سوپور منڈی میں ڈرائیور کے طور پر کام کرنے والا شہری اپنی گاڑی کے اندر مردہ پایا گیا۔نمائندے نے عین شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گاڑی مشکوک حالات میں کھڑی دیکھی گئی جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تلاشی آپریشن کے دوران گاڑی کے اندر سے ایک شہری کی نعش ملی جس کی شناخت نور محمد ساکنہ اتر پردیش کے بطور ہوئی ہے ۔ پولیس کے ایک سنیئر آفیسر نے ا سکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بظاہر، یہ دم گھٹنے کا معاملہ لگتا ہے لیکن مزید کہا کہ تمام زاویوں کی جانچ کی جا رہی ہے۔پولیس نے موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے تفصیلی تفتیش شروع کر دی ہے۔ ادھر کچھ لوگوں کے شدید حملے کے دو دن بعد، ایک جونیئر فارماسسٹ جمعہ کو ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ صحت کے فارماسسٹ شبیر احمد چودھری ساکنہ دھرنا مینڈھر پر 12 نومبر کو سب سنٹر چھتری ڈیوٹی کے راستے پر کچھ نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔افسران نے بتایا کہ چودھری کو سب ڈسٹرکٹ اسپتال مینڈھر اور بعد میں گورئمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں جموں ریفر کر دیا گیا۔بلاک میڈیکل آفیسر مینڈھر ڈاکٹر اشفاق چودھری نے بتایا کہ شبیر احمد چودھری کو پھیپھڑوں اور جگر کی شدید چوٹوں کے علاوہ متعدد فریکچر بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شبیر آج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔دریں اثنا، پولیس نے پہلے ہی ایف آئی آر درج کر لی ہے اور واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ایک پولیس اہلکار نے جی این ایس کو بتایا کہ اس سلسلے میں کچھ لیڈز کا پتہ چلا ہے اور پہلے ہی چند مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔










