لیفٹیننٹ گورنر نے ’وندے ماترم ‘ کی 150 ویں سالانہ تقاریب کے پہلے مرحلے کی اِختتامی تقریب میں شرکت کی

لیفٹیننٹ گورنر نے ’وندے ماترم ‘ کی 150 ویں سالانہ تقاریب کے پہلے مرحلے کی اِختتامی تقریب میں شرکت کی

آج زائد اَز 20,000 طالب علموں اور شہریوں نے شرکت کی جو قومی فخر کے مضبوط جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر

جموں//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جمعہ کو کہا کہ جموں و کشمیر کے لئے حالات کبھی بھی اتنے اچھے نہیں رہے جتنے 2019 کے بعد رہے ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ جموںوکشمیر کی معیشت 2021 ء سے متاثر کن رفتار سے ترقی کر رہی ہے اور 2019 ء کے بعد بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی جموںوکشمیر یوٹی کی تاریخ میں بے مثال ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہماری صنعتی کاری کی کوششیں شاندار ترقی دِکھا رہی ہیں۔ ہم نے جرأت مندانہ فیصلے کئے ہیں جو جموں و کشمیر کو ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا رہے ہیں اور اَپنے لوگوں کے لئے کہیں زیادہ خوشحالی یقینی بنا رہے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر جموں کے ایم اے سٹیڈیم میں قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کے 150 ویں سال کی تقریبات کے پہلے مرحلے کی اِختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اِس موقعہ پر زائد اَز 20 ہزار طلبأ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے ’وندے ماترم‘ کی اِجتماعی گائیکی میں حصہ لیا۔ دوسرا مرحلہ 9 ؍جنوری 2026 ء سے شروع ہوگا۔ یہ تقریب محکمہ ثقافت کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔اُنہوںنے ’وندے ماترم‘ کی 150 ویں سالانہ تقریب میں تاریخی شرکت پر جموں و کشمیر کے لوگوں کو مُبارک باد دِی ۔منوج سِنہا نے کہا،’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہوتاہے کہ جموں و کشمیر نے قومی ترانے کے 150 ویں سال کی ہفتہ بھرجاری تقریبات میں مجموعی شرکت کے حوالے سے قومی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ آج 20 ہزار سے زیادہ طلبأ اور شہریوں نے حصہ لیا جوقومی فخر کے مضبوط اِظہار کی علامت ہے۔‘‘اُنہوں نے بنکم چندر چٹوپادھیائے کو خراجِ عقیدت پیش کیا اورجدوجہد آزادی میںاُن کے تعاون اور سماج کو تحریک دینے میں اُن کے کردار کو اُجاگر کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بنکم چندر چٹوپادھیائے نے ماں بھارت اور اس کے سپوتوں کے درمیان رشتہ مضبوط کیا اور لوگوں کو آزادی حاصل کرنے کی تحریک دی۔اُنہوں نے کہا،’’ہر ہندوستانی کے دل میں ایک گیت ہے اور وہ ہے ’وندے ماترم‘۔ آزادی کی جدوجہد کے دوران جب کوئی وَندے ماترم گاتا تو دوسرے بھی اسے ہم آہنگی سے دہراتے اور گنگناتے تھے ۔اس طرح ایک مضبوط رشتہ قائم ہوا جس سے آج کی نوجوانوں کو ماں بھارتی کی خدمت کرنے کی ترغیب ملنی چاہیے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کے ہر طبقے کو بنکم چندر کے ان خیالات اور اصولوں کو پھیلانا چاہیے جنہوں نے ہماری آزادی کی تحریک کی تشکیل کی اور انہی اقدار کی روح سے جموں و کشمیر یوٹی کو آگے لے جانا چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’ہمیں اُس ہمت ، دانشمندی اور مضبوط عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے جس کی بنکم چندرنے ایک پُر اَمن اور خوشحال جموںوکشمیر یوٹی بنانے میں ہم سے توقع کی ہوگی ۔’’لیفٹیننٹ گورنر نے ہر شہری سے قوم سازی کے لئے خود کو وقف کرنے، نو آبادیاتی ماضی کے آثار کو چھوڑنے اور بھائی چارے اور مساوات کی روح اَپنانے کی اپیل کی۔اُنہوں نے کہا،’’ ’ہر گھر ترنگا‘ اور ’وندے ماترم‘ جیسے پروگراموں میں شہریوں کی بے مثال شرکت اس بات کی علامت ہے کہ جموں و کشمیر اَپنا ماضی ترک کر کے ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم یہ تبدیلی کچھ لوگوں کے لیے سخت تکلیف کا باعث بن رہی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ابھی بھی کچھ عناصر معاشرے میں چھپے ہوئے ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالیہ دِنوں میں ایسے کئی معاملات ہمارے علم میں آئے ہیں۔ ہمیں ایسے عناصر کو معاشرے سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا۔ ہمیں دہشت گرد عناصر کو تنہا کرنا ہوگا اور یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے وجود کے لئے ضروری سپورٹ سسٹم ختم کر دیاجائے۔ معاشرے کی اِجتماعی کوشش دہشت گردی کے خاتمے میں آخری فیصلہ کن قدم ثابت ہوگی۔‘‘اِختتامی تقریب میںممبرانِ پارلیمنٹ راجیہ سبھا اِنجینئر غلام علی کھٹانہ اور ست شرما، چیئرمین ضلع ترقیاتی کونسل جموں بھارت بھوشن، قانون ساز اسمبلی کے ارکان، ڈِی جی پی نلین پربھات، اِنتظامی سیکرٹریوں،اعلیٰ اَفسران؛ ممتاز شہریوں، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اَفراد نے شرکت کی۔