گورو دیو سری سری روِی شنکر نے اندرونی اَمن اور منشیات سے پاک زِندگی پر متاثر کن خطاب کیا
سری نگر// محکمہ اعلیٰ تعلیم ( ایچ اِی ڈِی )نے محکمہ اَمورِ نوجوان و کھیل کود کے اشتراک سے آج یہاں بخشی سٹیڈیم میں ایک تاریخی ’ ایڈو یوتھ میٹ ‘ کا اِنعقاد کیا جس کا مقصد منشیات کے اِستعمال سے نمٹنے اور ہمہ جہتی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔اِس تقریب میں کشمیری کالجوں اور یونیورسٹیوں کے زائد اَز20,000 طلبأنے شرکت کی جس میں روحانی پیشوا اور آرٹ آف لیونگ فائونڈیشن کے بانی گورو دیو سر ی سری روی شنکرنے متاثر کن خطاب کیا۔اِس موقعہ پر کئی اراکینِ اسمبلی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری (اے سی ایس) اعلیٰ تعلیم شانت منو، وائس چانسلرز، رجسٹرارز، ڈائریکٹرز، پرنسپلز، اساتذہ اور مختلف کالجوں کے فیکلٹی ممبران بھی موجود تھے۔ اِس سے قبل سری سری روی شنکر نے وائس چانسلروں، پرنسپلوں اور فیکلٹی ممبران کے ساتھ ملاقات کی جہاںوائس چانسلرسکاسٹ نے یونیورسٹی کیمپس میں آرٹ آف لیونگ سینٹروں کو قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ بے چینی اور اِضطراب سے نمٹنے والے طلبأ کی مدد کی جاسکے۔ گورودیو نے فاؤنڈیشن کی ویلنس اور لائف سکل پروگراموں کو جموں اور کشمیر میں ہم نصابی اقدامات کے طور پر مربوط کرنے کے لئے مکمل تعاون کا وعدہ کیاجس میں جذباتی مضبوطی، ذہنی تندرستی اور قیادت کی نشو ونما پر زور دیا۔گورودیو نے تقریباً 20,000 نوجوانوں سے خطاب کیا اور اُنہوں نے اَپنے خطاب میں منشیات کے استعمال کو ختم کرنے کے لئے اِجتماعی اقدامات پر زور دیا اور تعلیم کو محبت، خوشی اور تخلیقی صلاحیتوں کے راستے کے طور پر دوبارہ تصور کرنے کی تلقین کی۔ اُنہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اَپنی ثقافتی ورثے کو اپنائیں اور اِختراع، ہمدردی اور ہم آہنگی کے ساتھ زِندگی گزاریں۔سری سری روی شنکر نے ذہنی صحت کے بحران پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عالمی آبادی کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے اور اس کا حل ذہنی توجہ، مراقبہ اور متوازن زِندگی میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے کشمیر کی روحانی وراثت کا حوالہ دیتے ہوئے سپندا کاریکا اور قدیم سانس کی مشقوں کا ذکر کیا اور جدید تعلیم میں ان کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔ گورو دیو نے سکے کلبوں کے ذریعے اساتذہ اور نوجوانوں کی تربیت کی بھی تجویز دی جو طلبأ کی توجہ، خوشی اور اندرونی استحکام کو فروغ دیتے ہیں۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری اعلیٰ تعلیم نے اپنے خطاب میں محکمہ کی اس عزم کا اعادہ کیاکہ وہ ایسے پروگراموں یوٹی کی تمام تعلیمی اداروں میں شامل کرنے کے لئے کوشاں ہے۔تقریب کا اختتام ایک ا ستفساری سیشن کے ساتھ ہوا ۔










