پوٹا ، گرفتاریاں عمل میں لانا کس کی دھین ، عوام کو پچھلے چھ دہائیوں سے اس پارٹی نے استحصال کیا /محبوبہ مفتی
سرینگر/ /اے پی آئی// جموں وکشمیر کے لوگوں کے ساتھ پچھلے چھ دہائیوں سے استحصال کرنے اور عوام کو دھوکہ دینے کا عندیہ دیتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ نے جموںوکشمیر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ داری بھارتیہ جنتا پارٹی اور نیشنل کانفرنس پر ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں کے مابین چولی دامن کا ساتھ ہے اور پچھلے کئی دہائیوں سے یہ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق شولی پورہ بڈگام میں پی ڈی پی کی جانب سے منعقد کئے گئے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ محبو بہ مفتی نے نیشنل کانفرنس کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شق نہیں کہ 2014میں جموں صوبے کے لوگوں نے بی جے پی کو منڈیٹ دے دیا اور وادی کشمیر میں پی ڈی پی کو اعتماد دے دیا ۔ دونوں پارٹیوںکے مابین گڑھ جوڑ ہوا ، مشترکہ طور پر حکومت کا قیام عمل میںلایا گیا ، اس مدت کے دوران بی جے پی نے 370،35Aکو ہٹانے ، حکومت کو مزار شہداء پر جانے سے روکنے یا نوجوانوں کے خلاف درج کئے گئے ایف آئی آر واپس لینے کی مخالفت کی ہو تو پی ڈی پی ذمہ دار ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کٹھوعہ کی 8سالہ لڑکی کی آبرو ریزی کے بعد ملزموں کے حق میں احتجاج کرنے کی پاداش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دو وزیروںکو برطرف کیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس زرا اپنے گربیاں میں جھانکے ، جموں وکشمیر کے لوگوں کو گولیاں کا نشانہ بنانے ، جیلوں میں جگہ نہ ہونے ، مظفرآباد پر بم برسانے ، پوٹا لاگو کرنے ، جموں وکشمیر میں کریک ڈائونوں ، نوجوانوںکو گرفتار کرنے کا سلسلہ کس نے شروع کیا ۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور اُس وقت کے ممبر پارلیمنٹ سیف الدین سوز کو پارٹی سے کیوں برطرف کیا گیا ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی والی حکومت میں نائب وزیر خارجہ کون تھے ۔ پی ڈی پی صدر نے نیشنل کانفرنس کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ راجیہ سبھا کے الیکشن پی ڈی پی کو ووٹ دینے کی تجویز سامنے رکھی گئی ، ہم نے بے زمینوں کو زمین الراٹ کرنے ، بقایات صارفین کو بجلی فیس معاف کرنے اور عارضی ملازمین کو مستقل نوکریاں فراہم کرنے کی بلیں پیش کی تھیں جنہیں نیشنل کانفرنس نے حمایت نہیں کی۔ زمین بل کو معافیہ کہا گیا جبکہ دیگر بلوں کو غیر مناسب قرار دے دیا گیا ، نیشنل کانفرنس کی اصلیت یہی ہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ نے عوام سے تلقین کی کہ وہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز کر کے اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔










