جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم کاسخت سردی کے خدشات پراظہار تشویش

جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم کاسخت سردی کے خدشات پراظہار تشویش

کشمیر کے سرد علاقوں کے لیے سبسڈائزڈ لکڑی اور مٹی کے تیل کی فراہمی بحال کرنے پر زور دیا /قیوم وانی

سرینگر//آئندہ آنے والی سخت اور طویل سردی کی پیش گوئی کے پیش نظر جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم (JKCSF) کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بالخصوص وادی کشمیر میں ممکنہ بجلی کی کٹوتیوں اور نظامِ بجلی کی خرابیوں سے عام زندگی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ بیان کے مطابق چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ سردیوں کے دوران بجلی کی طویل بندش صرف ایک تکلیف نہیں بلکہ بہت سے لوگوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے—خاص طور پر اْن مریضوں کے لیے جو بجلی سے چلنے والے آکسیجن کنسٹریٹرز اور ہیٹنگ آلات پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ جدید ضروریات کے بڑھنے کے باوجود وادی کی روایتی سہولیات—سبسڈی والی جلانے کی لکڑی اور مٹی کا تیل—اب عوامی تقسیم کے نظام سے غائب ہو چکی ہیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ ایک وقت تھا جب لکڑی ہر گھر کا حق سمجھی جاتی تھی، جو محکمہ جنگلات کے ذریعے رعایتی نرخوں پر فراہم کی جاتی تھی تاکہ ہر خاندان سردیوں کے دوران بنیادی حرارت کا انتظام کر سکے۔ آج وہ سہولت ایک ماضی کی یاد بن چکی ہے، اور عام شہری مہنگائی اور غیر یقینی بجلی سپلائی کے رحم و کرم پر ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مٹی کا تیل جو کبھی بجلی بندش کے دوران روشنی اور حرارت کا سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ تھا، اب سرکاری سپلائی چین سے تقریباً غائب ہو گیا ہے، جس کا اثر خاص طور پر غریب طبقوں اور دیہی علاقوں پر زیادہ پڑ رہا ہے۔جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توانائی اور فلاحی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے تاکہ کشمیر کے عوام کو سخت سردیوں میں بے یار و مددگار نہ چھوڑا جائے۔ فورم نے ز وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور مٹی کے تیل اور جلانے کی لکڑی کی سبسڈائزڈ تقسیم بحال کریں۔قیوم وانی نے کہا کہ سردیوں میں حرارت کی فراہمی کوئی آسائش نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے، اور حکومت پر لازم ہے کہ وہ شدید موسمی علاقوں میں رہنے والے عوام کے تئیں اپنے اخلاقی اور انسانی فریضے کو پورا کرے۔