وزیر اعلیٰ نے بلیوارڈروڈ کی چوڑائی اور فور لیننگ کا سنگِ بنیاد رکھا

وزیر اعلیٰ نے بلیوارڈروڈ کی چوڑائی اور فور لیننگ کا سنگِ بنیاد رکھا

’’ سرینگر اور جموں شہر کی ترقی ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہو گی ۔ وزیر اعلیٰ

سرینگر//وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے آج بلیوارڈ روڈ کی چوڑائی اور فور لیننگ ( نہرو پارک سے کرال سنگری تک آر ڈی 2000میٹر سے آر ڈی 7000میٹر ) کا سنگِ بنیاد رکھا ، جو حکومت کی سرینگر کے خوبصورت اور سیاحتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں میں ایک اہم سنگِ میل ہے ۔ یہ منصوبہ جو پبلک ورکس ( آر اینڈ بی )ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تقریباً 19.94 کروڑ روپے کی لاگت سے عمل میں لایا جا رہا ہے ، کشمیر کی سب سے مشہور جھیل کے کنارے کی سڑک رابطے کو بہتر بنانے کا ہدف رکھتا ہے ۔ اس موقع پرنائب وزیر اعلیٰ مسٹر سریندر کمار چودھری ، وزیر اعلیٰ کے مشیر مسٹر ناصر اسلم وانی ، ایم ایل اے خانیار علی محمد ساگر ، ایم ایل اے حضرت بل شیخ سلمان علی ساگر ، ایم ایل اے ذڈی بل تنویر صادق ، ایم ایل اے چھان پورہ مشتاق گورو ، چیف انجینئر آر اینڈ بی اور دیگر سینئر افسران اور عملہ موجود تھے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ بلیوارڈ سٹریچ کی توسیع نہ صرف ٹریفک کی روانی کو بہتر بنائے گی بلکہ ڈل جھیل کے اطراف کی جمالیاتی اور سیاحتی قدر میں بھی اضافہ کرے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا ’’ بلیوارڈ روڈ پر سفر تکلیف دہ ہو چکا ہے ۔ منزل تک پہنچنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ان کی حکومت سرینگر کے روڈ نیٹ ورک کو ڈی کنجسٹ کرنے اور رہائشیوں اور سیاحوں کو انتہائی ضروری ریلیف فراہم کرنے کیلئے متعدد منصوبوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سرینگر کو مناسب توجہ نہیں دی گئی ، لیکن ’’ اب ہماری حکومت کے تحت تمام غلطیوں کو درست اور ختم کر دیا جائے گا ۔ ‘‘ انہوں نے زور دیا کہ یہ صرف سرینگر تک محدود نہیں بلکہ’’ جموں شہر کو بھی اس کا حق نہیں ملا ۔ دونوں شہروں کو گذشتہ دس برسوں میں جو نظر اندازی کا سامنا رہا اسے میری حکومت درست کرے گی ۔ ہم مذہب ، نسل یا علاقے کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتے ۔ ‘‘انہوں نے ڈوگرا حکمرانوں کی طرف سے متعارف کرائی گئی دربار موو روایت کی بحالی کا حوالہ دیا جو ان کی حکومت کی علاقوں کے درمیان اتحاد اور مساوات کے عزم کی دلیل ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے شہری رہائشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت سری نگر میں ڈی کنجیشن اور عمودی رہائش کے حل کیلئے سنجیدگی سے منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ سرینگر میں زمین سکڑ رہی ہے اور اب پائیدار رہائش اور شہری منصوبہ بندی ہماری اولین ترجیحات ہیں ۔ ‘‘ سلک فیکٹری راجباغ کے قریب فُٹ برج کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ پل ان کے سابقہ دور میں موٹر ایبل ڈھانچے کے طور پر تصور کیا گیا تھا لیکن بعد میں ’’ مسلسل حکومتوں کیلئے بہترین معلوم وجوہات ‘‘ کی بنا پر اسے پیدل چلنے والے پل میں تبدیل کر دیا گیا ۔ انہوں نے اعلان کیا ’’ اب ہم اسے دوبارہ موٹر ایبل بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ ایک دو منزلہ پُل جس کی ایک منزل پیدل چلنے والوں کیلئے اور دوسری گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے ہو گی ۔ ‘‘ نائب وزیر اعلیٰ مسٹر سریندر کمار چودھری نے کہا کہ یہ منصوبہ سڑک کی حفاظت اور رسائی کو نمایاں طور پر بہتر بنائے گا جو مقامی لوگوں اور سیاحوں دونوں کو فائدہ پہنچائے گا ۔ مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ یہ اقدام انفراسٹرکچر سے چلنے والی ترقی پر حکومت کی توجہ کی عکاسی کرتا ہے ، جبکہ ایم ایل اے علی محمد ساگر نے سرینگر شہر میں حکومت کی مسلسل ترقیاتی کاموں کی تعریف کی ۔