کبھی کشمیر اپنی وادیوں کی پاکیزگی، دریاؤں کی صداقت اور انسانوں کے اخلاق سے پہچانا جاتا تھا۔ آج انہی وادیوں میں شراب کے جام چھلک رہے ہیں،گلی گلی، کوچہ کوچہ شراب کے جام سجے ہیں، یہ وہ وادی ہے جہاں کبھی زینت شرم تھی، اور پہچان ایمان۔ آج انہی سڑکوں کے کنارے بوتلیں چمکتی ہیں، اور شرم نظریں جھکائے کہیں اوجھل ہو گئی ہے۔اور بدقسمتی یہ ہے کہ شراب پینے والے بھی اب صرف”پردیسی” نہیں رہے وہ اب ہم میں سے ہی ہیں ـ قرآنِ کریم نے شراب کو شیطانی عمل کہہ کر اس سے مکمل اجتناب کا حکم دیا ہے اور احادیث میں شراب کو “اُمّ الخبائث” یعنی تمام برائیوں کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ آج یہ لعنت صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہی۔ مختلف عمر کے لوگ، خواہ تعلیم یافتہ ہوں یا مزدور، سب اس زہر کے عادی بنتے جا رہے ہیں۔ اب تو شہر کی گلیوں میں وہ چہرے بھی دکھائی دیتے ہیں جو باہر سے روزگار کے لیے یہاں آتے ہیں، مگر شام ڈھلے ہاتھوں میں بوتل تھامے نظر آتے ہیں۔ یہ منظر صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی تشویش کا باعث ہے۔ شراب انسان سے نہ صرف عقل کی روشنی چھین لیتی ہے بلکہ وقار، سکون اور ایمان کی خوشبو بھی ماند کر دیتی ہے۔ حکومت شاید اسے ایک کاروبار سمجھتی ہے، مگر یہ کاروبار نہیں یہ تباہی ہے۔ ایک نسل کی بربادی کا آغاز ہے۔ شراب صرف جسم میں زہر نہیں گھولتی، یہ روح کی پاکیزگی کو چاٹ جاتی ہے۔ جو معاشرہ حلال و حرام کے فرق کو بھول جائے، اُس کا زوال صرف وقت کی بات رہ جاتا ہے- آج کے بچے جو اپنے گھروں کے سامنے شراب کی دکانیں دیکھتے ہیں، کل کو اُن کے لیے حرام اور جائز کی لکیر کہاں باقی رہے گی؟ ہم کیا وراثت چھوڑ رہے ہیں اُن کے لیے؟ قرآن کے الفاظ یا بوتلوں کی چمک؟
اب بھی وقت ہے ہم جاگ جائیں، اپنی زمین، اپنی نسل اور اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔ ورنہ ایک دن یہی وادی ہم سے سوال کرے گی:میں نے تمہیں پاکیزگی دی تھی، تم نے مجھے زہر کیوں پلایا؟










