جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں

دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس،مودی حکومت کا عزم ،امت شاہ کی اعلیٰ سطحی اجلاس میں ہدایات

سرینگر//وی او آئی//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں نئی دلی میں جمعرات کو جموں کشمیر میں حفاظتی صورتحال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو ، پولیس سربراہ ، فوج، فورسز اور انٹلی جنس کے افسران بھی موجود تھے ۔ اس میٹنگ میں جموں کشمیر میں موجودہ حفاظتی صورتحال پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اس دوران وزیر داخلہ نے افسران کو ہدایت دی کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھا جائے اور دہشت گردی کے خلاف زیروٹالرنس کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کو کہا ۔ انہوںنے اس موقعے پر ترقیاتی منظر نامے کا بھی جائزہ لیا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو جموں و کشمیر کی سیکیورٹی صورتحال پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہرایا گیا۔ اجلاس میں ریاستی و مرکزی سطح کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، جن میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، مرکزی داخلہ سیکریٹری گووند موہن، انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا، جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ نلن پربھات، سی آر پی ایف کے ڈی جی جی پی سنگھ، اور بی ایس ایف کے ڈی جی دلجیت سنگھ چودھری شامل تھے۔اجلاس میں پیر پنجال خطے کی سیکیورٹی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر داخلہ نے تمام سیکیورٹی اداروں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کریں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔درین اثنا،اپریل میں پہلگام کے بائسرن علاقے میں ہوئے دہشت گرد حملے کے بعد وادی میں سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ اس حملے میںسیاحوں ؎کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد جنوبی کشمیر کے حساس علاقوں میں انٹیلیجنس اور آپریشنل سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کئی مشتبہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے، اور متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار یا ہلاک کیا گیا۔فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے زمینی اور فضائی نگرانی کو بڑھایا گیا ہے، جبکہ مقامی آبادی کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ معمولاتِ زندگی بحال رہیں اور سیاحت کو فروغ ملے۔اسی تناظر میں، جموں خطے کے بالائی علاقوں ، بشمول راجوری، پونچھ، اور ڈوڈہ — میں بھی دہشت گردی مخالف آپریشنز جاری ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں ان علاقوں میں کئی کامیاب کارروائیاں کی گئی ہیں، جن میں ہتھیاروں کی برآمدگی، مشتبہ افراد کی گرفتاری، اور سرحد پار سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا۔ ان کارروائیوں میں فوج، پولیس، اور نیم فوجی دستے مشترکہ طور پر حصہ لے رہے ہیں۔وزیر داخلہ امت شاہ نے اجلاس میں کہا کہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں عوام کے اعتماد کو بحال رکھنا ہے اور ترقیاتی عمل کو متاثر کیے بغیر سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے فورسز کو ہدایت دی کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، انٹیلیجنس نیٹ ورک، اور مقامی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی جاری رکھیں۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ ترقیاتی منصوبوں — خاص طور پر سڑکوں، تعلیمی اداروں، اور سیاحتی مقامات — کو سیکیورٹی کے دائرے میں لا کر محفوظ بنایا جائے گا۔یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہوا ہے جب جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں شدت اختیار کر چکی ہیں،اور جموں کے مختلف سرحدی علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے دہشت گردی مخالف کارروائیاں جاری ہیں اس کے علاوہ حکومت خطے میں امن، ترقی، اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کے لیے پرعزم نظر آتی ہے۔