mehbooba mufti

محبوبہ مفتی نے سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر میں اقربا پروری کے الزامات پر شدید تنقید کی، سوشل میڈیا پر جوابدہی کا مطالبہ

سرینگر//سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کی صدر محبوبہ مفتی نے سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUK) کی کارکردگی پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اقربا پروری، بیک ڈور تقرریوں اور تعلیمی معیار میں گراوٹ کے الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی صورتحال کو “بدانتظامی اور قانون شکنی” قرار دیا اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔وائس آف انڈیا کے مطابق محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ ادارہ، جسے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو معیاری اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، اب “ذاتی کاروبار” کی طرح چلایا جا رہا ہے جہاں اصولوں اور ضابطوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی روش طلبہ کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ان کے بقول، “سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کو علم و مواقع کا مینار بننا تھا، مگر یہ اقربا پروری اور جانبداری کا مرکز بن چکی ہے، جو طلبہ کے اعتماد کو مجروح کر رہی ہے۔ان کے بیانات ان خبروں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں کئی تقرریاں بیک ڈور طریقے سے کی گئی ہیں، اور ان میں سے بیشتر افراد بیرونی ہیں، جس سے شفافیت اور انصاف پر سوالات اٹھے ہیں۔سابق آئی جی پولیس عبدالرشید خان نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اقربا پروری کا مسئلہ نیا نہیں ہے۔ انہوں نے اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے تقرریاں ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق، “بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی ادارے اقربا پروری اور سیاسی مداخلت کے زیر اثر ہیں، جس کے نتیجے میں تعلیمی معیار اوسط درجے کا اور تحقیقی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔یہ الزامات طلبہ، اساتذہ اور سوشل میڈیا صارفین کے درمیان وسیع بحث کا سبب بنے ہیں۔ کئی طلبہ نے ان خبروں کو “انتہائی مایوس کن” قرار دیا اور کہا کہ مرکزی یونیورسٹی کی ساکھ کو غیر شفاف تقرریوں سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ ایک طالب علم کارکن نے لکھا، “اقربا پروری اور بدانتظامی طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمارے ادارے ملک کے دیگر اداروں سے مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے وزارت تعلیم سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ایک پیغام میں کہا گیا، “غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات ہی CUK کی ساکھ بحال کر سکتی ہیں اور جموں و کشمیر کے ہزاروں طلبہ کی امیدوں کا تحفظ ممکن بنا سکتی ہیں۔واضح رہے کہ 2009 میں قائم ہونے والی سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کو وادی کے طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے اور قومی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ ادارہ انفراسٹرکچر کی کمی، اساتذہ کی قلت اور اب مبینہ بدانتظامی جیسے مسائل کا شکار رہا ہے۔