حادثات کا پیش آنا ،جرائم کے واقعات کا رونما ہونا ،نشہ سے عقل باختہ افراد کا موجب

حادثات کا پیش آنا ،جرائم کے واقعات کا رونما ہونا ،نشہ سے عقل باختہ افراد کا موجب

حکومت ٹھوس اقدام اٹھائیں،کونسلنگ اور انسداد کیلئے ہر کوئی اپنی ذمہ داری نبھائیں

سرینگر / /منشیات کے بڑھتے رجحان کے روکتھام کیلئے سرکار نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ایک لائحہ عمل کے تحت نشہ مکت مہم کا آغاز کیا ہے اور اس مہم کے تحت ریلیاںنکالی جاتی ہیں اوراسکولوں ودیگر اداروں کے باہمی اشتراک سے سمینار اور تقریبات کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ نشے کے عادی افراد بھی منشیات فروشوں کے آلہ کار بن کر دوسروں کو مفت منشیات کی لت لگا کر بعد ازاں انہیں منشیات فروخت کرنے لگتے ہیں۔منشیات کا استعمال اتنی بری عادت ہے کہ یہ انسان سے جائز و ناجائز ہر کام کروا لیتی ہے چاہے وہ کسی بے گناہ انسان کا قتل ہی کیوں نہ ہو۔جبکہ جرائم کے واقعات کو دیکھا جائے تو آدھے سے زیادہ جرائم نشے کی وجہ سے ہوتے ہیں، بیشتر ٹریفک حادثات بھی عموماً اسی وجہ سے رونما ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں حساس افراد نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی سطح پر منشیات کی روکتھام کے لئے نشہ مکت مہم کا جو آغاز کیا گیا ہے ان وہ خوش آئند ہے البتہ سمیناروں وریلیوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا ہے بلکہ منشیات کی لت میں مبتلا افراد کی کونسلنگ کے لئے مخصوص سنٹروں اور اسپتالوں کا قیام لازمی بن گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری سطح پر قائم اسپتالوں میںیہ علاج بہت مہنگا ،پیچیدہ اور طویل ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا ائس نشہ بہت ہی طاقتور اور اثرپذیر ہے، جس کی ایک خوراک ہی انسان کو اس کا عادی بنادیتی ہے۔اس سے انسان کا حافظہ کمزور ہوجاتا ہے اور یہ اعصابی امراض کے ساتھ گردوں اورجگر کے لئے بھی انتہائی مہلک ہے۔بدقسمتی سے نشے کا استعمال تعلیمی اداروں میں بھی فروغ پا رہا ہے ، جہاں اسکول ،کالج اوریونیورسٹیوںکے لڑکے لڑکیاں اس کے استعمال کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی معذوری کے ساتھ ساتھ حلق کی خرابی، جگر کی خرابی، امراض قلب، قلت عمر، معدہ کے زخم، فاسد خون، تنفس کی خرابی، کھانسی، سردرد، بے خوابی، دیوانگی، ضعف اعصاب، فالج، ٹی بی، بواسیر، دائمی قبض، گردوں کی خرابی جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اسی طرح لڑکیاں سیگریٹ کے علاوہ نشہ آورچیزوں کا استعمال کررہی ہیں،۔انہوں نے پولیس اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس گھناونے دھندے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان ضمیر فروشوں کو نشانہ عبرت بنایا جائے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ والدین اور اساتذہ کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیںتاکہ منشیات کے عادی افراد اس سے دور ہوسکیں گے ۔