وعدوں کو پورا کرنے اور عوامی توقعات پر پورا اُترنے کے عزم کا اعادہ کیا
اننت ناگ//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نےاس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرے گی اور شہریوں کی توقعات پر پورا اُترنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار ضلع اننت ناگ کے دورے کے دوران کیا جہاں اُنہوں نے 63.97 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی گئی پندرہ واٹر سپلائی سکیموں کا اِفتتاح کر کے عوام کے نام وقف کیا۔اِفتتاح کی گئی سکیموں میں ہردو شیچن، داؤد پورہ تلوانی پورہ کماد، اچھہ بل ٹاؤن، انڈو پشرو، دیتھو کھل، شیر گنڈ آہو پیسن، رانی پورہ چوہڑ، گڈوال، کسانہ محلہ، نرسنگری کچوان، لیگری پورہ، سنگم سیٹھار، پشکریری، بکر وال بستی چیک I اور شالگن جی بی شامل ہیں۔یہ سکیمیں تقریباً 64 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے مکمل کی گئی اور یہ ضلع کے 24 دیہات اور ایک قصبے کو صاف اور فلٹر شدہ پینے کا پانی فراہم کریں گی جو دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔اِس موقعہ پروزیر اعلیٰ نے اچھہ بل میں منعقدہ ایک بڑے عوامی اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس کامیابی کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا،’’آج ہم نے عوام کے نام 15 واٹر سپلائی سکیمیں وقف کی ہیں۔ چار اسمبلی حلقوں کی پندرہ سکیمیںاور اب صاف، فلٹر شدہ پینے کا پانی آپ کے گھروں تک پہنچے گا، جو سکیمیں رہ گئی ہیں ہم ان کو بھی مکمل کریں گے۔اُنہوںنے عوام کو مزید یقین دِلایا کہ ترقی صرف پانی کی فراہمی تک محدود نہیں رہے گی۔اُنہوں نے کہا ،’’ دیگر محکموںکے کام چاہے وہ تعلیم ہو، صحت، سڑکیں، صنعت، سیاحت، سماجی بہبود، قبائلی امورہوں جہاں کہیں بھی آپ کو حکومت سے توقع ہے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ہم ان توقعات پر پورا اُتریں گے اورہم آپ سے کئے گئے وعدوں کو پورا کریں گے، ہم پر اعتماد رکھیں باقی کام ہماری ذِمہ داری ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے حکمرانی کے چیلنجوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باہر بیٹھ کر بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میںحکومت چلانا آسان ہے۔اُنہو ںنے کہا،’’میں ان میں سے کچھ سے کہتا ہوں، آ کر میری کرسی پر دس دن بیٹھو۔ اگر گیارہویں دن تم اپنے پیر نہ کھینچو، تو میں تمہاری بات مان لوں گا۔‘‘اُنہوں نے اَپنی حکومت کو وراثت میں ملنے والی مالی واجبات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیر اِلتوأ ادائیگیوں میں ہزاروں کروڑ روپے بوجھ ٹھیکیداروں اور خدمات فراہم کنندگان کو پریشان کر رکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’یہ میرا یا رانا صاحب کا قصور نہیں ہے، ہمیں یہ صورتحال وراثت میں ملی ہے، لیکن ہم نے اس کے لئے کبھی بہانہ نہیں بنایا۔ ہم نے یہ نہیں کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے اور ہم اس بارے میں کچھ نہیں کریںگے۔ اس کے برعکس ہم نے خاموشی سے اس کا حل نکالنے کی کوشش کی۔ میں نے متعلقہ وزیر کے ساتھ بیٹھ کر اس کا حل تلاش کیا۔ میں دھوکہ دہی کی سیاست نہیں کرتا۔ میں نے کبھی بھی مشکل حالات کو بہانہ نہیں بنایا، باوجود اس کے کہ مجھے معلوم ہے کہ ان حالات میں کام کرنا کتنا مشکل ہے۔ لیکن ہم آپ کے سامنے تب ہی آئیں گے جب کام مکمل کریں گے۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔‘‘عمر عبداللہ نے عوام کی سیاسی اُمنگوں کا ذِکر کرتے ہوئے ریاست کا درجہ بحال کرنے پر اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے زور دار تالیوں کے درمیان کہا ،’’لیکن میرے ساتھیوں کو بھی بہادر ہونا پڑے گا۔ انہیں ان طاقتوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو صرف جموں و کشمیر میں تباہی چاہتے ہیں۔ ہم لڑیں گے۔ ہم جمہوری طریقے سے لڑیں گے۔ ہم پُرامن طریقے سے لڑیں گے۔ ہمیں اپنے حقوق آئین کے دائرے میں حاصل ہوں گے۔ لیکن میں یہاں کے لوگوں کے گھروں میں تباہی نہیں لاناچاہتا۔ میں آج بھی یہ مانتا ہوں کہ اللہ کی عدالت میں مایوسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمیں ہمارا حق ملے گا۔ لیکن فی الحال ، کام جاری رہے گا۔‘‘اِس تقریب سے وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی اور اَرکانِ قانون ساز اسمبلی اننت ناگ ویسٹ عبدالمجید بٹ، ڈاکٹر بشیر احمد ویری (سری گفوارہ ۔بیج بہاڑہ)، الطاف احمد کلو (پہلگام)، ریاض احمد خان (شانگس۔اننت ناگ) اور ظفر علی کھٹانہ (کوکرناگ) نے بھی خطاب کیا۔ اُنہوں نے واٹر سپلائی سکیموں کے افتتاح کو اننت ناگ کے لئے ایک سنگ میل قرار دیا۔










