سرینگر//وی او آئی//جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ نے ایک پاکستانی جوڑے کی 35 سالہ طویل قانونی جدوجہد کو مسترد کرتے ہوئے انہیں فوراً ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے۔ذرائع کے مطابق، 80 سالہ محمد خلیل قاضی اور ان کی 61 سالہ اہلیہ عارفہ 1988 سے پاکستانی پاسپورٹ پر سرینگر میں مقیم تھے۔ انہوں نے 1989 کے ملک بدری کے حکومتی حکم کو چیلنج کرتے ہوئے بھارتی شہریت اور آبائی جائیداد پر حق کا دعویٰ کیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جوڑے نے بھارت میں قیام کے لیے حقائق کو چھپایا اور غلط بیانی سے قانونی نظام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ اس بنیاد پر عدالت نے ان کا قیام غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ملک چھوڑنے کی ہدایت دی۔عدالت نے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے دوران ایک اسکول سرٹیفکیٹ کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوا کہ محمد خلیل قاضی نے 1955 سے 1957 کے دوران سرینگر کے ایک اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی، جو ان کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ وہ 1948 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد پاکستان میں پھنس گئے تھے۔چیف جسٹس ارون پالی اور جسٹس راج نیش اوسوَل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کہا کہ جوڑا 1988 میں قلیل مدتی ویزا پر بھارت آیا تھا، جو ختم ہو چکا تھا، اور اس کے بعد سے وہ غیر قانونی طور پر مقیم تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ اپیل کنندگان نے “صاف ہاتھوں” سے رجوع نہیں کیا اور قانونی عمل کا غلط استعمال کیا، جس کے تحت انہوں نے جھوٹے حقائق فراہم کر کے دہائیوں تک قیام حاصل کیا۔فیصلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا، جن میں جھوٹے مقدمات دائر کرنے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔عدالت نے کہا کہ جوڑے کو 1990 میں ایک عبوری ریلیف آرڈر کے تحت سرینگر میں قیام کی اجازت دی گئی تھی، جس کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہ تین دہائیوں تک یہاں مقیم رہے۔ تاہم، اب انہیں 28 جون 2025 کی حتمی تاریخ کے مطابق بھارت چھوڑنا ہو گا۔بینچ نے واضح کیا کہ امیگریشن اور فارنرز ایکٹ 2025 کے تحت، کوئی بھی غیر ملکی بھارت میں بغیر قانونی ویزا یا اجازت نامے کے داخل نہیں ہو سکتا، نہ ہی قیام یا سکونت اختیار کر سکتا ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ غیر ملکی صرف آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور آزادی کے حق کے مستحق ہیں، لیکن انہیں بھارت میں سکونت اختیار کرنے کا حق حاصل نہیں۔جوڑا جولائی 1988 میں اپنے کمسن بیٹے نعیم کے ہمراہ بھارت آیا تھا، اور قلیل مدتی رہائشی پرمٹ حاصل کیا تھا۔ بعد میں کئی بار توسیع دی گئی، تاہم 1989 میں جاری کردہ ملک بدری کا حکم ان کے قیام پر قدغن بن گیا۔ہائی کورٹ نے ملک بدری کے اصل حکم کو قانونی طور پر درست قرار دیتے ہوئے اپیل کو خارج کر دیا اور کہا کہ درخواست گزار بھارت میں قیام کے لیے کوئی ٹھوس جواز فراہم نہیں کر سکے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت کو غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔










