جھیل کے کنارے بلیوارڈ روڈ پر حفاظتی بند کا ایک حصہ منہدم، فوری تعمیر نو کا آغاز

جھیل کے کنارے بلیوارڈ روڈ پر حفاظتی بند کا ایک حصہ منہدم، فوری تعمیر نو کا آغاز

سرینگر//وی او آئی//ڈل جھیل کے کنارے واقع معروف بلیوارڈ روڈ پر قائم حفاظتی بند (Bund) کا ایک حصہ چند روز قبل اچانک منہدم ہو گیا، جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر مرمتی اور تعمیر نو کا کام شروع کر دیا ہے تاکہ مزید نقصان کو روکا جا سکے۔وائس آف انڈیا کے مطابق محکمہ آب رسانی اور فلڈ کنٹرول کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ مرمت کا کام تیزی سے جاری ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ کم سے کم وقت میں حفاظتی بند کو بحال کیا جائے۔مقامی شہریوں اور اس علاقے میں روزانہ آنے جانے والے افراد نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بند کی بنیادیں چوہوں کی جانب سے کی گئی سوراخوں کی وجہ سے کمزور ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے یہ منہدم ہوا۔ ان کے مطابق، بند کے کئی دیگر حصے بھی اسی طرح کے خطرے سے دوچار ہیں اور اگر فوری توجہ نہ دی گئی تو مزید حصے بھی زمین بوس ہو سکتے ہیں۔ڈل جھیل میں کام کرنے والے شکارہ والوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پورے حفاظتی بند کا جامع معائنہ کریں، تاکہ وقت پر کمزور جگہوں کی نشاندہی ہو سکے اور ان کی مضبوطی کے لیے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکام نے غفلت برتی تو یہ نہ صرف پیدل چلنے والوں بلکہ بلیوارڈ روڈ پر چلنے والی ٹریفک کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ڈل جھیل کے حفاظتی بندوں کی بروقت دیکھ بھال اور مرمت کس قدر ضروری ہے۔ نہ صرف یہ بند ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں بلکہ اس علاقے میں موجود انفراسٹرکچر جیسے سڑکیں، فٹ پاتھ، اور سیاحتی سہولیات بھی انہی بندوں پر انحصار کرتی ہیں۔اگر مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کرنی ہے تو متعلقہ محکمہ جات کو چاہیے کہ وہ مربوط حکمتِ عملی کے تحت پورے بلیوارڈ روڈ اور ڈل جھیل کے اطراف موجود بندوں کی مستقل نگرانی اور تحفظ کو یقینی بنائیں۔