کابل /ایم این این//اگست 2025میں افغانستان ایک بڑے انسانی المیے کا شکار ہوا جب مشرقی صوبہ ننگرہار میں 6.0 شدت کا زلزلہ آیا جس نے جلال آباد اور قریبی پہاڑی دیہاتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ رات گئے آنے والے اس زلزلے نے سینکڑوں دیہات کو تباہ کر دیا۔ ہزاروں گھروں کو زمین بوس کر دیا اور انسانی جانوں کا بڑا نقصان ہوا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1,400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جبکہ 3,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے اور متاثرین ملبے تلے دبے رہ گئے۔ افغانستان کے ہسپتال اور کلینک زخمیوں سے بھر گئے، جب کہ ریسکیو ٹیمیں دور دراز علاقوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔یہ سانحہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا جب افغانستان پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ ملک کئی دہائیوں کے تنازعات، غربت، اور خشک سالی کی وجہ سے نازک حالت میں ہے۔ طالبان انتظامیہ، جو 2021 سے اقتدار میں ہے، اب بھی اپنی حکمرانی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ زلزلے نے نہ صرف انسانی بحران کو مزید بڑھایا بلکہ عالمی امداد میں کمی اور بین الاقوامی تنہائی کی وجہ سے صورتِ حال مزید پیچیدہ بنا دی۔اس قدرتی آفت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا بڑا بحران بھی افغانستان کو متاثر کر رہا ہے۔
، یعنی افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے ملک بدری۔ پاکستان نے اپنے “غیر قانونی غیر ملکیوں کی واپسی کے منصوبے” کے تحت لاکھوں افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ اس پالیسی کا نشانہ وہ افراد بھی بنے ہیں جن کے پاس اقوام متحدہ کے جاری کردہ “پروف آف رجسٹریشن ” کارڈ یا “افغان سٹیزن کارڈز ” موجود ہیں۔ اس اقدام سے تقریباً 1.4 ملین رجسٹرڈ اور 800,000 غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین متاثر ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کی اپیلوں کے باوجود پاکستان نے اپنی پالیسی پر سختی سے عمل کیا ہے۔ نتیجتاً طورخم، چمن اور اسپن بولدک جیسے سرحدی راستوں پر ہزاروں افغان روزانہ وطن واپس جانے پر مجبور ہوئے۔ صرف ایک دن میں طورخم سے 6,300 سے زائد افراد واپس گئے، جن میں سے اکثر ایسے علاقوں میں پہنچے جو زلزلے سے تباہ ہو چکے تھے اور جہاں کوئی بنیادی سہولت موجود نہیں تھی۔واپس آنے والوں نے پاکستان میں ہراسانی، پولیس کے چھاپوں، بھتہ خوری اور بار بار حراست میں لیے جانے کی شکایات کی ہیں۔ کئی خاندان علیحدگی کے خوف سے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ خاص طور پر خواتین اور بچے شدید خطرات سے دوچار ہیں کیونکہ طالبان حکومت میں تعلیم، ملازمت اور آزادی پر سخت پابندیاں ہیں۔طالبان انتظامیہ نے پاکستان کے فیصلے کی براہِ راست مخالفت تو نہیں کی لیکن اس پر زور دیا کہ یہ عمل بتدریج ہونا چاہیے تاکہ لوگ مالی اور ذاتی تیاری کر سکیں۔ پاکستانی حکام نے بڑے پیمانے پر بدسلوکی کی تردید کی ہے لیکن انہوں نے خود تسلیم کیا کہ اس عمل کی رفتار نے کئی مشکلات پیدا کی ہیں۔بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس صورتِ حال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق، زلزلے کے بعد بڑے پیمانے پر ملک بدری نہ صرف انسانی المیہ ہے بلکہ افغانستان کو مزید غیر مستحکم کرنے کا باعث بنے گی۔ یو این ایچ سی آر نے اسے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔یوں افغانستان اس وقت ایک دوہری آزمائش کا شکار ہے: ایک طرف قدرتی آفات کی تباہ کاریاں اور دوسری طرف جبری ملک بدری کا بحران۔ یہ امتزاج لاکھوں افغانوں کو بے گھر، محروم اور غیر یقینی مستقبل کی طرف دھکیل رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ایسے نازک موقع پر افغانستان کو عالمی توجہ، ہمدردانہ پالیسیوں اور پائیدار انسانی امداد کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس کے عوام کو سہارا دیا جا سکے اور ان کے وقار و حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔










