پوٹن اور زیلنسکی تیار نہیں لیکن جلد ہی کچھ ہوگا: ٹرمپ

واشنگٹن/ ایجنسیز//امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے پر عمل کرنے کیلئے پْرعزم ہیں حالانکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان روبرو مذاکرات کے امکان پر غیر یقینی صورتِ حال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میڈیانے جمعرات کویہ اطلاع دی۔ ٹرمپ نے چہارشنبہ کے روز سی بی ایس نیوز کو فون پر ایک انٹرویو میں کہا کہ میں اس معاملے کو دیکھ رہا ہوں اور میں اس کے بارے میں صدر پوٹن اور صدر زیلنسکی سے بات کر رہا ہوں۔ کچھ ہونے والا ہے اور جلد ہی کچھ ہوگالیکن وہ ابھی تیار نہیں ہیں۔اگست میں پوٹن سے الاسکا سربراہی ملاقات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے کل کہا کہ وہ آئندہ دنوں میں یوکرین جنگ کے بارے میں مذاکرات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے توقع ظاہر کی کہ ٹرمپ جمعرات کو زیلنسکی سے فون پر بات کرنے والے ہیں۔پوٹن نے بھی کل کہا کہ اگر یوکرینی صدر ماسکو آتے ہیں تو میں اْن سے ملاقات کیلئے تیار ہوں لیکن ایسی کسی بھی ملاقات کیلئے بخوبی تیاری ہونی چاہیے اور اس سے ٹھوس نتائج برآمد ہوں۔ دوسری جانب یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے ایسی ملاقات کیلئے ماسکو کے مقام کی تجویز مسترد کر دی۔ٹرمپ نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان ہونے والے قتلِ عام سے ناخوش ہیں لیکن امن معاہدے پر زور دیتے رہیں گے۔میرے خیال میں ہم اس معاملے کو سلجھانے جا رہے ہیں۔ سچ کہوں تو میرا خیال تھا کہ روس سے بات کرنا آسان تھا لیکن لگتا ہے کہ یہ تھوڑا مشکل ہے۔ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر یہ پیش گوئی کی تھی کہ وہ جنوری میں اقتدار سنبھالنے کے بعد روس۔یوکرین جنگ تیزی سے ختم کروا سکیں گے لیکن وہ اس میں ناکامی پر مایوسی کا شکار ہیں۔