سرینگر جموں شاہراہ بند رہنے کے باعث کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ

مرغ کے داموں کو پر لگ گئے ،گاہکوں میں ناراضگی ، چیکنگ اسکارڈ کو متحرک کرنے کا کیا مطالبہ

سرینگر/ سی این آئی // سرینگر جموں شاہراہ مسلسل بند رہنے کے باعث کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ مرغ کے داموں کو پر لگ گئے ۔ منافع خوروں کی جانب سے مرغ اپنی من پسند قیمتوں پر فروخت کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں گاہکوں میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں میں مسلسل خراب موسمی صورتحال کے چلتے سرینگر جموں شاہراہ پانچویں روز بھی ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند رہی ۔ شاہراہ بند رہنے کے نتیجے میں وادی کشمیر میں مرغ کے داموں میں کافی اضافہ ہو گیا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ پر گاہکوں میں سخت تاراضگی پائی جا رہی ہے اور انہوں نے کہا کہ کچھ دنوں قبل125 روپے فی کلو فروخت ہوتا تھا تاہم شاہراہ بند ہونے کے ساتھ ہی مرغ فی کلو 180روپے تک پہنچایا گیا ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرغ فروشوں کی جانب سے ناجائزہ منافع خوری کا سہارا لیا جا رہا ہے اور سڑک بند ہونے کے ساتھ ہی قیمتو ں میں اضافہ کیا جا رہا ہے جس سے لوگوں کو دو دو ہاتھوں لوٹنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی جا رہی ہے ۔ گاہگوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کشمیر کے محکمہ خوراک، شہری رسد اور امور صارفین کی طرف سے کوئی نگرانی نہیں کی جا رہی ہے۔راجباغ کے ایک صارف بلال احمد نے کہا’’سڑک بند ہونے سے پہلے مرغ 125 روپے فی کلو میں باآسانی دستیاب تھا، اب وہ اسے 170-180 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔ یہ سراسر لوٹ مار ہے اور کوئی ان سے پوچھ گچھ نہیں کرتا۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہر رکاوٹ کو لوگوں کے استحصال کا بہانہ بنا دیا جاتا ہے۔ایک اور شہر ی نے الزام عائد کیا کہ سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کے ساتھ ہی قیمتوں میں اضافہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ناجائز منافع خوروں کو کھلا چھوڑ دیا گیا ہے جس سے ان کے حوصلہ بلند ہو رہے ہیں اور وہ ایسی کارورائیاں انجام دیتے ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی منافع خوری پر روک لگانی لازمی ہے ۔