ڈی جی آئی سی ایف آر اِی نے جموں میں ایک روزہ تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا

جموں// ڈائریکٹر جنرل اِنڈین کونسل فار فارسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن ( آئی سی ایف آر اِی) کنچن دیوی نے آج جموں و کشمیر محکمہ جنگلات کے فارسٹ رینج افسران ( ایف آر اوز) اور دیگر فیلڈ اَفسران کے لئے ایک روزہ تربیتی پروگرام کا اِفتتاح کیا۔ یہ پروگرام فارسٹ اِنفارمیشن سینٹربکرم چوک جموں میں منعقد ہوا۔تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلات کے ملازمین کی مٹی کے ٹیسٹ پر مبنی غذائی اجزأ کے اِنتظام کے طریقوں پر صلاحیت کو بڑھانا اور فیلڈ عملے میں جنگلاتی ماحولیاتی نظام کے بارے میں معلومات میں اضافہ کرنا تھا۔ڈائریکٹر جنرل آئی سی ایف آر اِی نے اَپنے صدارتی خطاب میں جموں و کشمیر کے تناظر میں’’ فارسٹ سوئیل ہیلتھ کارڈز‘‘کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی وزارتِ ماحولیات و جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے شروع کئے گئے پروگرام کے تحت تمام علاقائی جنگلاتی ڈویژنوں کے لئے یہ کارڈ تیار کئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے فیلڈ اَفسران پر زور دیا کہ وہ شجرکاری کے پروگراموں کی منصوبہ بندی کرتے وقت علاقے کی ہیلتھ سوئیل کے پیرامیٹروں کو مدنظر رکھیں تاکہ شجرکاری کے منصوبوں میں کامیابی حاصل ہو سکے۔اُنہوں نے کہا کہ نباتات اور مٹی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ جنگلاتی مٹی جنگل کے احاطہ، بیڈرک اور مائیکرو آرگنزم کے زیر اثر ایک طویل عرصے تک تیار ہوتی ہے۔ درختوں کی اقسام اور جنگلاتی پودے مٹی اور مقامی آب و ہوا کو متاثر کرتے ہیں۔اِسی طرح درختوں اور اس سے منسلک پودوںکی نشوونما اور بقا ٔکا زیادہ تر انحصار مٹی کی تہوں کی صحت پر ہے۔ اِس لئے جنگلاتی مٹی کی غذا ئیت کی حیثیت اور صحت کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ جنگلات کی پیداوارمیں اِضافہ ہو، مائیکروبیل آبادی میں اضافہ ہو، شجرکاری کے منصوبوں میں کامیابی حاصل ہو اور جنگلاتی ماحولیاتی نظام میں استحکام پیدا ہو۔ڈائریکٹر جنرل آئی سی ایف آر اِی نے مزید کہا کہ کچھ برس پہلے یہ عام خیال تھا کہ جنگلاتی مٹی زرعی مٹی جیسی ہی ہوتی ہے اور اسے علیحدہ طور پر مطالعہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن دراصل جنگلاتی مٹی قدرتی ماحول میں غذائی سائیکلنگ اور جڑوں کے اردگرد کی مائیکرو بائیولوجی سے متاثر ہوتی ہے۔ اِس کے لئے جنگل کی مٹی کا الگ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔اسی پس منظر میں آئی سی ایف آر اِی نے ملک بھر کے مختلف جنگلاتی ڈویژنوں میں مختلف اقسام کی نباتات کے تحت جنگلاتی مٹی کے ہیلتھ کارڈز تیار کرنے کے لئے ایک ہمہ گیر تحقیقاتی منصوبہ شروع کیا جسے مرکزی وزارت ماحولیات وجنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی (ایم او اِی ایف سی سی ) نئی دہلی کے کیمپاسکیم کے تحت مالی معاونت حاصل ہے۔ یہ منصوبہ جنگلاتی شعبے میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جس کا مقصد جنگلاتی مٹی میں غذائی اجزأ کی حالت کا وسیع پیمانے پر جائزہ لینا اور انحطاظ پذیر علاقوں کے لئے موزوں مناسب حکمت عملی وضع کرنا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ آئی سی ایف آر اِی کی پورے ہندوستان کے مختلف بائیو گرافک زونوں میں نو علاقائی تحقیقی ادارے موجود ہیں۔پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فارسٹ اور ہینڈ آف فارسٹ فورس جموںوکشمیر سریش کمار گپتا نے آئی سی ایف آر اِی اورایچ ایف آر آئی شملہ کا شکریہ اَدا کیا ۔ اُنہوں نے جموں و کشمیر کی علاقائی جنگلاتی ڈویژنوں کے لئے فارسٹ سوئیل ہیلتھ کارڈز مکمل کئے۔ اُنہوں نے فیلڈ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اَپنے متعلقہ ڈویژنوں کے ہیلتھ کارڈز سے رہنمائی لے کر نرسریوں میں اعلیٰ معیار کا پودا تیار کریں اور فیلڈ میں کامیاب شجرکاری کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے آئی سی ایف آر اِی بالخصوص اس کے ادارے ایچ ایف آر آئی شملہ کے ساتھ مستقل تعاون اور روابط پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دُنیا کی مٹی مختلف اِنسانی اور قدرتی عوامل کے باعث دباؤ کا شکار ہے اور قومی سطح پر 2030 ء تک 2.5 سے 3 ارب ٹن اِضافی کاربن سنک پیدا کرنے کے ہدف کے تناظر میں جنگلاتی مٹی کی صحت کا جائزہ لینا اور اسے بہتر بنانا اِنتہائی ضروری ہے۔سریش کمار نے اس بات پر تشویش کا اِظہار کیا کہ مٹی سے متعلق رُکاوٹوں اور غذائی اجزأ کی صورتحال سے متعلق درست معلومات کی کمی کے باعث شجرکاری کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔ اُنہوں نے آئی سی ایف آر اِی اورایچ ایف آر آئی جیسے تحقیقی اداروں کے کردار کو سراہا کہ وہ محکمہ جنگلات کو درست معلومات فراہم کرتے ہیں اور قیمتی قدرتی وسائل کے اِنتظام میں معاونت کرتے ہیں۔ڈائریکٹر ایچ ایف آر آئی شملہ ڈاکٹر سندیپ شرما نے پروگرام میں ایک اہم خطاب کیا۔ اُنہوں نے مٹی کے اِنسانوں کے لئے اہم اور ہمہ جہت کردار پر زور دیا اور آئی سی ایف آر اِی کی طرف سے فارسٹ سوئیل ہیلتھ کارڈز کی تیاری کی اہم ذمہ داری کا پس منظر پیش کیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ ایچ ایف آر آئی شملہ کو جموں و کشمیر کے تمام علاقائی جنگلاتی ڈویژنوں کے لئے ایف ایس ایچ سیز تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
ڈائریکٹرایچ ایف آر آئی نے بتایا کہ مختلف جنگلاتی اقسام کے مختلف مقامات سے مٹی کے نمونے جمع کئے گئے جنہیں سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروٹوکولز کے مطابق تجزیہ کیا گیا تاکہ مٹی کے اہم پیرامیٹروں کا جائزہ لیا جا سکے۔اُنہوں نے بتایا کہ یہ تربیتی پروگرام فیلڈ سطح کے اَفسران کو جنگلاتی مٹی سے متعلق عملی معلومات فراہم کرنے کے وسیع مقصد کا حصہ ہے۔تکنیکی سیشن کے دوران سائنسدان ۔جی ایچ ایف آر آئی شملہ ڈاکٹر آر کے ورمانے شرکأ سے تفصیلی بات چیت کی اور فارسٹ سوئیلز ہیلتھ کارڈز(ایف ایس ایچ سیز)پر پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے مختلف مقامات سے مٹی کے نمونے جمع کئے گئے اور جی آئی ایس و آر ایس ٹولز کے ذریعے سیمپلنگ جگہوں کا انتخاب اور مقدار کا تعین کیا گیا۔ سائنسدان ایف اور نیشنل پروجیکٹ کوآرڈی نیٹر (این پی سی)، فارسٹ ریسرچ اِنسٹی چیوٹ دہرادون ڈاکٹر وجیندر پال پنوارنے قومی سطح پر ایف ایس ایچ سیز منصوبے کی اِبتدا، تصور اور نفاذ پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے بتایا کہ نمونوں کے تجزیے کے لئے ملک بھر میں یکساں طریقۂ کار اَپنایا گیا ہے۔پروگرام میںپی سی سی ایف اور چیف وائلڈ لائف وارڈن سرویش رائے، پی سی سی ایف ،سی اِی او کیمپا ٹی رابی کمار، کنزرویٹر آف فارسٹ، ڈویژنل فارسٹ اَفسران اور رینج اَفسران نے شرکت کی۔ایک روزہ پروگرام میں مختلف ریکنک کے100 سے زائد افسران نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ورچیول موڈ حصہ لیا۔ اِفتتاحی سیشن میں جموں و کشمیر کے ایف ایس ایچ سیز کی باضابطہ اِجرائی بھی کی گئی۔مکمل سیشن کے دوران بات چیت کی گئی اور شرکأنے اپنے شکوک و شبہات کو دور کرنے کے لئے سوالات پوچھے۔