کمشنر سٹیٹ ٹیکسز نے صوبہ جموںکے سٹیٹ ٹیکس اَفسران کے ساتھ جائز ہ میٹنگ کی صدارت کی

جموں//کمشنر سٹیٹ ٹیکسز جموں و کشمیرپی کے بٹ نے صوبہ جموںکے سٹیٹ ٹیکس اَفسران( ایس ٹی اوز) کے ساتھ مالی برس 2025-26 ء کی دوسری سہ ماہی سے قبل ایک جامع جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔یہ میٹنگ آج یہاںایکسائز اینڈ ٹیکسزیشن کمپلیکس میں منعقد ہوئی جس کا مقصد محکمہ کی کارکردگی کا جائزہ لینا، درپیش چیلنجوں کا حل تلاش کرنا اور ٹیکس وصولی و تعمیل میں بہتری کے لئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔میٹنگ میں ایڈیشنل کمشنر سٹیٹ ٹیکسز ایڈمنسٹریشن اینڈ اَنفورسمنٹ جموں نمرتا ڈوگرہ اور صوبہ جموںکے تمام حلقوں کے سٹیٹ ٹیکس اَفسران نے شرکت کی جبکہ آئوٹ سرکل کے اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں شرکت کی۔دورانِ میٹنگ کمشنر سٹیٹ ٹیکسز جموں و کشمیرپی کے بٹ نے مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے اور مالی برس 2025-26 ء کے اہداف حاصل کرنے کے لئے ٹیکس آمدنی میں اِضافے کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ ٹیکس چوری کو روکنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر اِستعمال کرتے ہوئے فعال اقدامات اَپنائیں۔اُنہوں نے کہا،’’ہمارا ہدف مضبوط ٹیکس تعمیل کو یقینی بنانا ہے جبکہ کاروبار دوست ماحول کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ ہمیں ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اَپنے اِختیار میں موجود ہر ٹول کو بروئے کار لانا چاہیے۔‘‘کمشنر موصوف نے غیر فعال ڈیلروںکے خلاف کارروائی، بروقت ریٹرن فائلنگ اور ٹیکس کٹوتی برائے سورس( ٹی ڈِی ایس) کی نگرانی کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت دی۔اُنہوں نے نقدی سے وابستہ شعبہ جات جیسے بینکٹ ہالوں، کیٹرنگ سروسز اور ریٹیل میں فیلڈ اِنسپکشن کو تیز کرنے پر زور دیا تاکہ جی ایس ٹی قوانین کی تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔کمشنر نے اِی وے بلوںکی جانچ پڑتال کی اہمیت کو اُجاگر کیا تاکہ آمدنی کے اخراج کو روکا جا سکے اور افسران کو ہدایت دی کہ وہ جی ایس ٹی پرائم اور بزنس اِنٹلی جنس یونٹ (بی آئی یو) کا اِستعمال کرتے ہوئے ہائی رِسک سیکٹربشمول سیمنٹ، آئرن اور موبائل اِنڈسٹریز کی نگرانی کریں جہاں ٹیکس کی خلاف ورزیوں کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔میٹنگ میں ٹیکنالوجی کے مؤثر اِستعمال، جی ایس ٹی پرائم، اِی۔وے بلوں اور بزنس انٹیلی جنس یونٹ(بی آئی یو )جیسے ٹولز کے ذریعے ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی اور اُن کے خلاف کارروائی کے طریقۂ کار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایڈیشنل کمشنر جموں نمرتا ڈوگرہ نے حلقہ وار کارکردگی کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا، بہتری کے ممکنہ پہلوؤں کی نشاندہی کی اور باقی ماندہ سہ ماہی کے لئے قابل عمل حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا۔ محکمہ نے ٹیکس ایڈمنسٹریشن کو مضبوط بنانے، ریونیو کی وصولی کو بڑھانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی نفاذ اور سٹریٹجک نگرانی کے ذریعے ٹیکس نادہندگان کے درمیان ڈیٹرنس پیدا کرنے کے اَپنے عزم کا اعادہ کیا۔