پیٹشن کمیٹی نے ایمز اونتی پورہ کی پیش رفت کا جائزہ لیا

ترجیحی پروجیکٹ کی بروقت تکمیل اور جلد شروع کرنے پر زور

سری نگر//جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پیٹشن کمیٹی نے اسمبلی کمپلیکس سری نگر میں ایک میٹنگ منعقد کی جس میں آل اِنڈیا اِنسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس) اونتی پورہ کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین پیرزادہ فاروق احمد شاہ نے کی اور میٹنگ میں اَرکان مشتاق گورو، سلمان ساگر، وحید الرحمان پرہ، میاں مہر علی اور ٹھاکر رندھیر سنگھ نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے میٹنگ کے شروعات میں بنیاد ی ڈھانچے کی ترقی ، مشینری کی خریداری، اَفرادی قوت اور دیگر متعلقہ منصوبوں سے متعلق کاموں کا تفصیلی جائزہ لیا۔چیئرمین موصوف نے اِس بات پر زور دیا کہ اس اہم منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے کام کی مقررہ مدت کا سختی سے خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔اُنہوں نے کہا،’’یہ منصوبہ کشمیرکے لوگوںکے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے اور اسے جلد اَز جلد مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ لوگ اِس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔‘‘اُنہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ تمام نامکمل کاموں کی رفتار تیز کریں اور انہیں مقررہ مدت میں مکمل کریں۔کمیٹی نے مزید زور دیا کہ ایمز اونتی پورہ کو ایک مربوط یونٹ کے طور پر شروع کیا جانا چاہیے جس میں او پی ڈِی اور آئی پی ڈی خدمات سمیت تمام سہولیات کو عام لوگوں کے لئے بیک وقت فعال بنایا جائے۔چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی خود بھی موقعہ پر جا کر کام کے معیار اور رفتار کا جائزہ لے گی۔ایمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس موہنتی جو میٹنگ میں موجود تھے، نے اَب تک کی پیش رفت کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔اُنہوں نے بتایا کہ ایم بی بی ایس کورسز جولائی 2026 ء سے شروع ہونے کی توقع ہے جبکہ او پی ڈِی اور آئی پی ڈِی خدمات اسی سال کے آخیر تک شروع ہو جائیں گی۔دریں اثنا، کمیٹی نے درخواستوں کے ذریعے اٹھائے گئے دیگر مسائل پر بھی غورو خوض کیا۔اَرکان کمیٹی نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر درخواست کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور مناسب ازالے کو یقینی بنانے کے لئے اس کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔چیئرمین موصوف نے افسران پر زور دیا کہ وہ اَپنے متعلقہ دفاتر سے متعلق مسائل پر تفصیلی رپورٹس پیش کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں اسے عدم تعمیل تصور کیا جائے گا۔بات چیت میں شہریوں کی شکایات کے عملی، مؤثر اور وقتی حل نکالنے پر مرکوز تھی جبکہ اراکین نے تعمیری تجاویز اور آرأ بھی پیش کیں۔