پانپور// وزیر برائے زراعت، دیہی ترقی اور پنچایتی راج جاوید احمد ڈار نے ضلع پلوامہ کے پانپور میں لیتھ پورہ، چندہارہ اور کھریو کے زعفران بیلٹ کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاں زعفران کے کاشتکاروں سے بات چیت کی اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ دورہ کشمیر کی مشہور زعفران صنعت کو محفوظ رکھنے اور فروغ دینے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔وزیر برائے زراعت نے دورے کے دوران زعفران کے کاشت کاروںسے بات چیت کی اور ان کے مسائل بغور سُناجن میں آبپاشی کے مسائل، رئیل اسٹیٹ کے دباؤ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی ضرورت شامل تھی۔ اُنہوں نے مسائل کے فوری حل کی یقین دہانی کی اور زعفرانی شعبے کو مضبوط کرنے کے لئے حکومت کی کوششوں پر زور دیا۔اُنہوںنے دوسو میں قائم اِنڈیا اِنٹرنیشنل کشمیر زعفران ٹریڈنگ سینٹر (آئی آئی کے ایس ٹی سی ) میں ایک تربیتی پروگرام میں بھی شرکت کی اور اُنہوں نے وہاں شرکأ سے خطاب کرتے ہوئے زعفران کی ثقافتی اور معاشی اہمیت کو اُجاگر کیا۔اس تقریب میں رُکن قانون ساز اسمبلی پانپورجسٹس (ر) حسنین مسعودی ، ڈائریکٹر زراعت ،چیف ایگری کلچر آفیسر پلوامہ،آئی آئی کے ایس ٹی سی کے ایڈمنسٹریٹر اور دیگر متعلقہ اَفسران بھی موجود تھے۔ ممبر اسمبلی پانپور نے علاقائی صورتحال اور زعفران کے کسانوں کا سپورٹ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ڈائریکٹر زراعت نے قومی مشن برائے زعفران کے تحت حاصل کردہ ترقی کی تفصیل پیش کی۔وزیرجاوید احمد ڈار نے قومی مشن برائے زعفران کی کامیابی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ آیہ آئی آئی کے ایس ٹی سی میں اِی۔نیلامی کی عمل آوری سے منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنایا گیا ہے جس کے باعث زعفران کی قیمتیں 2021-22ء میں 80,000روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 2,20,000روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی جس سے کسانوں کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔وزیر موصوف کا یہ دورہ حکومت کی زعفران کاشتکاروں کے لئے سپورٹ کی عکاسی کرتا ہے جس کا مقصد کشمیر کی زعفران صنعت کی دیرپا ترقی اور عالمی سطح پر مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔










