چیف سیکرٹری کی کسانوں کیلئے کسان خدمت گھروں کو ’ تبدیلی کے آلات‘ میں تبدیل کرنے کی ہدایت

چیف سیکرٹری کی کسانوں کیلئے کسان خدمت گھروں کو ’ تبدیلی کے آلات‘ میں تبدیل کرنے کی ہدایت

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے محکمہ زرعی پیداوار کو ہدایت دی کہ کسان خدمت گھروںکو دیہی علاقوں میں متحرک کثیر المقاصد مراکز میں تبدیل کیا جائے تاکہ انہیں جموں و کشمیر بھر کے کسان کمیٹی کے لئے’’ تبدیلی کے آلات ‘‘ کے طور پر متعارف کیا جاسکے۔اُنہوں نے تمام اَضلاع میں کسان خدمت گھروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے اس اقدام کو ’غیر معمولی پروگرام‘قرار دیاجسے قومی سطح کے ممتاز ماہرین نے تصور کیاہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس پروگرام میں زرعی ترقی کو تیز کرنے، کسانوں کی بیداری کو بڑھانے اور بہترین کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینے کی صلاحیت ہے۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ ہر کسان کنبے کا کم از کم ایک فرد کسان خدمت گھر سے رجسٹر ہونا چاہیے۔ اُنہوں نے بروقت مشورے ، مخصوص رہنمائی اور جدید ، سائنسی کاشتکاری کی تکنیکوں کے بارے میں بیداری فراہم کرنے میں اِن مراکز کے منفرد کردار پر روشنی ڈالی۔اُنہوں نے کسان خدمت گھروں کی اِفادیت بڑھانے کے لئے ہدایت دی کہ اِن میں سرکاری خدمات آن لائن فراہم کرنے کے لئے کامن سروس سینٹرز (سی ایس سیز) کے طور پر تسلیم کیا جائے، زرعی مشینری کے لئے کسٹم ہائرنگ مراکز کے طور پر کام کرنا اور بینکوں کے لئے ڈائریکٹ سیلنگ ایجنٹس (ڈِی ایس ایز) کے طور پر کام کرنا خدمات شامل کی جائیں تاکہ مالیاتی رسائی کو آسان بنایا جا سکے۔ اَتل ڈولونے ’جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت دی کہ زرعی کاروبار کے ان تمام منصوبوں کی فہرست تیار کریں جنہیں ’’کرشی ادھیامیز( کے یوز) ان مراکز پر قائم کر سکتے ہیں۔ اُنہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنروںکو بھی ہدایت دی کہ کامیاب مراکز کی کامیابی کی داستانیں دیگر اضلاع میں اشتراک کریں تاکہ ان کو اپنانے اور وسعت کو فروغ دیا جا سکے۔اُنہوں نے مرحلہ اوّل اور مرحلہ دوم کے تحت قائم کئے گئے کسان خدمت گھروں کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ہر ضلع کے ضلع ترقیاتی کمشنر سے ان کی عملی تیاری کی تفصیلات طلب کیں جس میں آئی ٹی اِنفراسٹرکچر جیسے ڈیسک ٹاپ، پرنٹرز، براڈ بینڈکی دستیابی کے ساتھ ساتھ کے یوکے ذریعے بیجوں، کھادوں اور کیڑے مار اَدویات کی فروخت کے لئے لائسنس بھی شامل ہیں۔پرنسپل سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار شیلندر کمار نے ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی کہ نئے قائم شدہ مراکز کو فعال کرنے کے لئے سخت ٹائم لائنز مقرر کی جائیںکیوں کہ کے یوز پہلے ہی مصروف عمل ہیں۔ اُنہوں نے ضروری آئی ٹی آلات کی فراہمی، کھاد کی فروخت کے لئے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں کا اِستعمال اور کسانوں کی رجسٹریشن اور خدمات کے حصول کو بڑھانے کے لئے فعال عوامی رَسائی پر زور دیا۔ایم ڈِی ، ایچ اے ڈِی پی سندیپ کمار نے میٹنگ کو بتایا کہ مرحلہ اوّل کے تحت جموں وکشمیر بھر میں 500 کسان خدمت گھروں فعال کئے جاچکے ہیں جن کی مدد کے لئے ایک مخصوص موبائل ایپلی کیشن بھی دستیاب ہے ۔تقریباً 5 لاکھ کسانوں نے کسان خدمت گھر پلیٹ فارم پر رجسٹر کیا ہے اور 1.25 لاکھ ایپ ڈائون لوڈز ہوچکے ہیںجن میں 96فیصد اینڈ رائیڈ صارفین شامل ہیں۔ راجوری ضلع کسان رجسٹریشن میں سرفہرست ہے جہاں زائد اَز 84,000 صارفین رجسٹرڈ ہیں۔کے کے جی ایپ میں اب جدید فیچرز شامل ہیں جس میںچیری اور سیب کے کاشتکاروں کے لئے فیصلہ سازی میں معاون نظام، شکایات کا ٹکٹ مینجمنٹ اور مشوروں کے لئے پش نوٹیفکیشن شامل ہیں۔ رجسٹریشن کے لئے ایک گیمنگ پر مبنی نظام بھی موجود ہے جس کے تحت 23 فیصد رجسٹرڈ کسان سطح دوم کی رجسٹریشن حاصل کر چکے ہیں۔مرحلہ دوم کے تحت صوبہ جموں میں 297 اور صوبہ کشمیرمیں 287 نئے مراکز شروع کرنے کے لئے تیار ہیں جو اِس پروگرام کی رَسائی اور اثر کو مزید بڑھا رہے ہیں۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ کسان خدمت گھر اقدام کی کامیابی اِنتظامیہ اور کسان کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے جس کا مقصد ٹیکنالوجی پر مبنی، کسان پر مبنی حل کے ذریعے زرعی شعبے کو مضبوط بنانا ہے۔