کشمیر کا سوزنی مرکز ’کرافٹ ٹوراِزم وِلیج‘ بننے جارہا ہے

مرکزی حکومت نے سونپاہ بڈگام میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور ثقافتی ماحول کے قیام کیلئے 10 کروڑ روپے کی منظوری دی

سری نگر//مرکزی حکومت نے کشمیر کے مشہور دستکاری شعبے کو فروغ دینے کے لئے ایک بڑے اقدام کے تحت آج بڈگام ضلع کے خوبصورت دودھ پتھری کی طرف جانے والے راستے پر واقع سونپاہ گاؤں کو ’’کرافٹ ٹوراِزم ولیِج‘‘بنانے کی منظوری دی ہے۔ اس منصوبے پر کُل لاگت 10 کروڑ روپے آئے گی۔یہ منظوری نیشنل ہینڈی کرافٹس ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سپورٹ سکیم کے تحت دی گئی ہے اور مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائلز کی جانب سے 4.5 کروڑ روپے کی پہلی قسط بھی جاری کی گئی ہے۔یہ منصوبہ محکمہ ہینڈی کرافٹس اینڈ ہینڈلوم کشمیر کے ذریعے عملایا جائے گااور فنڈز سینٹرل کاٹیج اِنڈسٹریز کارپوریشن آف اِنڈیا کے ذریعے فراہم کئے جائیں گے۔محکمہ کے ترجمان نے آج جاری ایک پریس ریلیز میں مرکزی حکومت کا شکریہ اَدا کرتے ہوئے کہا کہ سونپاہ کے سوزنی کاریگروںکی میراث کو تسلیم کرنا ایک خوش آئند قدم ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’اس ایوارڈ یافتہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے 22 کاریگروں نے مختلف سطحوں پر یو ٹی اور شلپ گوری ایوارڈز حاصل کر کے اپنی مہارت کا لوہا منوایا ہے۔‘‘دودھ پتھری اور توسہ میدان جیسے مشہور سیاحتی مقامات کے راستے میںسونپاہ کا یہ ’’کرافٹ ٹوراِزم ولیج‘‘ سیاحوں اور فن کے شوقین اَفراد کو کشمیری ہنر سے براہِ راست روشناس ہونے کا ایک بہترین موقعہ فراہم کرے گا۔ترجمان نے مزیدکہا،’’اس منصوبے کے تحت ڈیزائنر گیٹس، دیواروں پر فن پارے، لائیو کرافٹ ڈیمو سمیت ثقافتی اور انٹرایکٹیو زونز، کامن ورک سپیسز، ڈسپلے کم سیل کاؤنٹرز، بنیادی سہولیات، مارکیٹ تک رسائی اور برانڈنگ جیسے اقدامات کئے جائیں گے۔‘‘اُنہوں نے کشمیر جیسے قدرتی مقام کے لئے کرافٹ ٹورازم وِلیجوں کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا،’’یہ سونپاہ کو ایک جدید سیاحتی مرکز میں تبدیل کرے گا اور اس کے بھرپور ثقافتی اور دستکاری ورثے کو محفوظ رکھے گا۔