yasin malik

یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی این آئی اے کی اپیل

دلی ہائی کورٹ نے عرضی پر یاسین ملک سے جواب طلب کیا

سرینگر//وی او آئی//دہلی ہائی کورٹ نے پیر کو حریت رہنما اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے سربراہ یاسین ملک سے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی اْس درخواست پر جواب طلب کیا ہے جس میں اْنہیں دہشت گردی کی فنڈنگ کیس میں سزائے موت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔وائس آف انڈیا کے مطابق جسٹس ویویک چودھری اور جسٹس شالندر کور پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے ملک کو چار ہفتوں کے اندر این آئی اے کی درخواست پر اپنا تحریری جواب داخل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی۔عدالت نے نوٹ کیا کہ 9 اگست 2024 کے حکم کے باوجود نہ تو ملک کو جیل سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پیش کیا گیا اور نہ ہی انہوں نے اپنا جواب جمع کرایا۔ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالت نے گزشتہ سال یہ ہدایت دی تھی کہ ملک کو جسمانی طور پر عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ورچوئل پیشی کے ذریعے سنا جائے۔یاسین ملک، جو فی الوقت تہاڑ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، نے اس مقدمے میں خود دلائل دینے کا اعلان کیا تھا اور عدالت کی جانب سے وکیل مقرر کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ این آئی اے نے مئی 2023 میں ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے اْن کی سزا کو عمر قید سے بڑھا کر سزائے موت میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔جیل انتظامیہ نے بعد ازاں ایک درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ یاسین ملک ایک ’انتہائی حساس قیدی‘ ہیں، اس لیے اْنہیں عدالت میں جسمانی طور پر پیش کرنا عوامی نظم و نسق اور سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔