وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈیری اِنفراسٹرکچر سکیم کا جائزہ لیا

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ڈیری اِنفراسٹرکچر سکیم کا جائزہ لیا

جموں وکشمیر کی ڈیری صلاحیت کو اُجاگر کیا

سری نگر// وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے آج جموں و کشمیر ڈیری پروسسنگ اِنفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ سکیم (جے کے ڈِی پی آئی ڈِی ایس) پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ 1,433 کروڑ روپے کی سکیم ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر کے ڈیری شعبے کو ایک منظم، مضبوط اور عالمی سطح پر مقابلے کے قابل صنعت میں تبدیل کرنا ہے۔ دورانِ میٹنگ وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر میں ڈیری سیکٹر میں موجود وسیع اِمکانات کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے منظم دودھ پروسسنگ کی شرح 4 فیصد ہے جسے آئندہ سات برسوں میں بڑھا کر کم از کم 20 فیصد تک لے جانا ناگزیر ہے جس سے پانچ لاکھ سے زیادہ ڈیری فارموں کے لئے بہتر قیمتوں ، باقاعدہ ادائیگیوں اور مارکیٹ تک رَسائی کو یقینی بنایا جائے۔پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار شیلندر کمار نے سکیم پر تفصیلی پرزنٹیشن دی جو نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈِی ڈِی بی) کے ذریعے عملائی جا رہی ہے۔اِس منصوبے میں سری نگر اورجموں کے علاوہ 18 اَضلاع میں 10 خودکار دودھ پروسسنگ پلانٹوںکے قیام، دودھ جمع کرنے اور ٹھنڈا کرنے کی صلاحیت کو 10 لاکھ لیٹر فی دِن تک بڑھانے، 100 دودھ ٹیسٹنگ لیبارٹر یوں کے قیام اور 10,000 کسانوں کی ملکیت میں ڈیری کلیکٹیوز کے قیام کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر مجوزہ پروسسنگ پلانٹ کے لئے فوری طور پر 50-40 کنال اَراضی بغیر کسی رُکاوٹ کی نشاندہی اور منتقلی کو یقینی بنائیں۔وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ سڑک، بجلی اور پانی کی بروقت فراہمی کے لئے قریبی بین ڈیپارٹمنٹل کوآرڈی نیشن پر زور دیا۔اُنہوں نے این ڈِی ڈِی بی اور محکمہ پشو پالن کو ہدایت دی کہ وہ مصنوعی مادہ (سیکسڈ سیمین) کی پیداوار اور چارے کی ترقی سے متعلق معاہدوں کو جلد حتمی شکل دیں تاکہ نچلی سطح پر پیداوار میں اِضافہ ممکن ہو سکے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نبارڈ کو فنڈز کی بروقت فراہمی اور سخت مالی نگرانی یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ تمام محکمے طے شدہ اوقات کار پر سختی سے عملدرآمد کریں اور سٹیٹ سطح پر ہر سہ ماہی میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے سکیم کے متوقع اثرات کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ کوآپریٹیو اِداروں کی آمدنی میں نمایاں اِضافہ، دیہی اور ہنر مند ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گی اور حفظان صحت، برآمد کے لئے تیار دودھ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ سکیم صرف ایک شعبے کی بہتری نہیں بلکہ دیہی جموں و کشمیر کے لئے ایک معاشی انقلاب ہے۔اُنہوں نے کہا،’’ہمارے ڈیری سیکٹر میں دیہی خوشحالی کا ایک ستون اور ایکسپورٹ کی بہتری کا محرک بننے کی صلاحیت موجود ہے،‘‘ اُنہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ فوری اور درستگی کے ساتھ کام کریں۔میٹنگ میں وزیربرائے زراعت جاوید احمد دار، وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، پرنسپل سیکرٹری زرعی پیداوار، پرنسپل سیکرٹری خزانہ، وائس چانسلر سکاسٹ جموں، ڈائریکٹر محکمہ حیوانات اور نبارڈ ، این ڈِی ڈِی بی اوردیگر متعلقہ گروپوں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔