سرینگر میں ایک اور بڑی کارروائی

وادی کشمیر میں سڑا ہوا گوشت پھینکنے اور ضبط کرنے کے واقعات پر عوام میں غم و غصہ

گزشتہ چند روز میں 3ٹن سے زائد زائد سڑا ہوا گوشت مختلف علاقوں سے ضبط

سرینگر/وی او آئی//وادی کشمیر میں قریب گزشتہ ایک ہفتے سے فوڈ سیفٹی محکمہ کی جانب سے کارروائیوں کے دوران 3ٹن سے زائد سڑا ہوا گوشت ضبط کیاجاچکا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں میں فکر وتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور لوگ مطالبہ کررہے ہیں کہ اس غیر معیاری اور غیر حلال گوشت کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق کشمیر میں حالیہ دنوں کے دوران سڑے ہوئے اور غیر معیاری گوشت کی بڑی مقدار ضبط ہونے اور بعض مقامات پر عوامی جگہوں پر پھینکے جانے کے انکشافات نے عوام میں شدید غصے اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، محض چند دنوں میں 3000 کلوگرام سے زیادہ “سڑا ہوا گوشت” مختلف اضلاع سے ضبط کیا گیا۔ ہفتہ کو ہی سیکڑوں کلوگرام گوشت صورہ میں سکمز اسپتال کے قریب پھینکا ہوا ملا، جس نے خطے بھر میں سنسنی پھیلا دی۔کارروائیوں میں تیزی آنے کے ساتھ ہی بعض علاقوں میں مکینوں کو یہ خوفناک مناظر دیکھنے کو ملے جہاں سڑک کنارے بوسیدہ گوشت کے ڈھیر پڑے تھے۔ ان مناظر کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جنہوں نے عوام میں غصے اور گھن کا ملا جلا ردعمل پیدا کیا۔ایک صارف نے لکھا: *”ہم نے اپنی صحت اور خاندان کی سلامتی کے لیے ان ریستورانوں پر اعتماد کیا، اور بدلے میں یہ زہر کھلایا گیا۔ کون جانے ہم کب سے یہ کچرا کھا رہے تھے؟ہفتے کے روز لالچوک کے کئی ریستوران دوپہر کے عروج کے وقت بھی خالی نظر آئے۔ عام طور پر ویک اینڈ پر شہر کے بیچوں بیچ گاہکوں کی لمبی قطاریں نظر آتی ہیں، مگر اس بار غیر معمولی خاموشی چھائی رہی۔پمپور کے خریدار سمیر احمد، جو ایک خاندانی تقریب کے لیے خریداری کرنے آئے تھے، نے بتایا: *”جب بھی لالچوک آیا، اپنے پسندیدہ فاسٹ فوڈ یا وزوان کے بغیر نہیں لوٹا۔ مگر آج سڑے ہوئے گوشت کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد بھوک ہی مر گئی۔ اس بار میں نے صرف پھل خریدے۔کچھ مکینوں نے تو برسوں بعد سبزی خور ریستورانوں کا رخ کیا۔ نوہٹہ کے عامر بشیر نے کہاکہ پہلی بار برسوں بعد سبزی کھائی۔ انتخاب نہیں تھا، مگر کم از کم اطمینان تھا کہ محفوظ کھا رہا ہوں۔تیار شدہ وزوان جیسے کباب، رستہ اور گوشتابے، جومہمان نوازی کے لیے اولین انتخاب سمجھے جاتے تھے، اب لوگوں کی فہرست سے غائب ہو رہے ہیں۔ نشاط کی رہائشی شازیہ نے کہاکہ مہمان آتے تو وقت بچانے کے لیے بھروسہ مند دکان سے وزوان منگواتی تھی۔ اب خود پکانا بہتر لگتا ہے۔بمینہ کے ایک ریستوران مالک یاسر احمد کا کہنا ہے کہ ان کے کاروبار پر برا اثر پڑا ہے ایمانداری سے کام کرنے والوں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ایک شخص کی غلطی سب کا روزگار تباہ کر رہی ہے۔ اگر کوئی آدھی قیمت میں گوشت کا سالن بیچ رہا ہے، تو معیار کیسے برقرار رکھ سکتا ہے؟سول سوسائٹی اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں وقتی نہ ہوں بلکہ ایک مضبوط معائنہ اور سرٹیفکیشن نظام قائم کیا جائے تاکہ صرف معیاری گوشت ہی بازار تک پہنچے۔