چیف سیکرٹری نے سری نگر میں آبی ٹرانسپورٹ اور جھیلوں کے تحفظ کے اَقدامات کا جائزہ لیا

چیف سیکرٹری نے سری نگر میں آبی ٹرانسپورٹ اور جھیلوں کے تحفظ کے اَقدامات کا جائزہ لیا

سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے دیرپا شہری ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی تحفظ کو فروغ دینے کے ایک اہم قدم کے تحت ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں سری نگر میں اندرونِ آبی ٹرانسپورٹ (آئی ڈبلیو ٹی) کے آغاز اور جھیلوں کے تحفظ کے جاری اَقدامات کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ (ایچ اینڈ یو ڈِی ڈِی )، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، کمشنر سری نگر میونسپل کارپوریشن، وائس چیئرمین لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی (ایل سی ایم اے)، اِن لینڈ واٹر ویز اَتھارٹی آف اِنڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ شراکت داروں نے شرکت کی ۔میٹنگ کا آغاز وادی کے مشہور دریا ئے جہلم پر آبی ٹرانسپورٹ کو فعال بنانے کے لئے اُٹھائے گئے اَقدامات کے تفصیلی جائزے سے ہوا۔آئی ڈبلیو اے آئی اور متعلقہ محکموں کے اَفسران نے بتایا کہ اہم پیش رفت ہو ئی ہے جس میں بنیادی لوازمات کو حتمی شکل دی گئی ہے۔کمشنر سیکرٹری محکمہ مکانات و شہر ی ترقی مندیپ کور نے بتایا کہ آئی ڈبلیو اے آئی اور جموں و کشمیر حکومت کے درمیان 6؍ مارچ 2025ء کو ایک مفاہمتی نامے پر دستخط کئے گئے تھے جس سے یہاں آبی ٹرانسپورٹ کی منظم ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ اُنہوں نے بتایا کہ آئی ڈبلیو اے آئی کا سری نگر دفتر اَب مکمل طور پر فعال ہے اور مقامی حکام کے ساتھ مل کر اِس منصوبے پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ دریائے جہلم پر سات تیرتے کنکریٹ جیٹیوں کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا جا چکا ہے جو 15؍ جولائی 2025 ء سے پانچ ماہ میں مکمل ہوں گے۔ فیئر وے کی صفائی کا کام جاری ہے جس کے لئے وولر جھیل کے بالائی اور زیریں حصوں میں ایک ایک ڈریجر تعینات کیا گیا ہے۔
مزید برآں، یہ اِنکشاف کیا گیا کہ دریائے جہلم پر شہری آبی ٹرانسپورٹ پر ایک سٹیڈی کوچین واٹر میٹرو لمیٹڈ کے ذریعے کیا جا رہا ہے جس میں سنگم سے شادی پورہ پُل تک کا حصہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔محکمہ ٹرانسپورٹ نے ہائبرڈ الیکٹرک کروز،کشتی خدمات کے لیے ایک آپریٹر کی خدمات حاصل کرنے کے مقصد سے ایک معیاری درخواستِ تجاویز (آر ایف پی) جاری کی ہے اور یہ عمل دسمبر 2025 ء تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔لیک کنزرویشن اینڈ مینجمنٹ اَتھارٹی ( ایل سی ایم اے )نے جھیل ڈل اور نگین جھیلوں کے تحفظ کے حوالے جھیلوں کے تحفظ، اِنتظام اور ترقی کے لئے کئے گئے اَقدامات کی تفصیلی جائزہ پیش کیا۔وائس چیئرمین ایل سی ایم اے شاہد سلیم نے بتایا کہ پہلی بار جھیل کی حد بندی سروے آف انڈیا کے ذریعے مکمل کی گئی ہے۔ فروری 2023ء میں کئے گئے ڈرون سروے کی مدد سے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کو روکنے میں مدد ملی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ سائنسی بنیادوں پر ڈی ۔ویڈنگ اورڈریجنگ کے لئے باتھ میٹرک،ہائیڈروگرافک سروے بھی کیا گیا ہے تاکہ جھیل کے ایکو سسٹم کو نقصان نہ پہنچے۔سیوریج ٹریٹمنٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ جھیلوں کے گرد پانچ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پیز) فعال ہیں جنہیں اَمرت 2 کے تحت اَپ گریڈ کیا جا رہا ہے تاکہ نکاس شدہ پانی کی کوالٹی کو بہتر بنایا جاسکے۔ ایک نیا 30 ایم ایل ڈی صلاحیت کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) گپت گنگا میں زیر تعمیر ہے تاکہ شمال مشرقی حصے کی باقی آبادی کا احاطہ کیا جا سکے۔ مزید یہ کہ تیل بل علاقے میں 100 زمین پر مبنی بائیو۔ڈائجسٹرز نصب کئے گئے ہیں تاکہ گندے پانی کو جھیل میں جانے سے روکا جا سکے۔دیگر اقدامات کے تحت یہ بتایا گیا کہ جھیل کی صفائی، گھاس پھوس (لِلی) کی نکاسی اور عمومی صفائی کا عمل مشینوں اور دستی طریقے دونوں سے جاری ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران جھیل کا ایک تہائی حصہ بحال کیا جا چکا ہے اور کھلے پانی کا رقبہ بڑھ کر 20.3 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اِس کے علاوہ ایک بائیو۔میتھی نیشن اور ویڈ ڈسپوزل پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے جو سالانہ 70,000 میٹرک ٹن گھاس کو پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس سے ’اپنا کھاد‘ کے نام سے ایک کھاد تیار کی جا رہی ہے۔مستقبل کے منصوبوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’’ڈل۔نگین جھیل ایکو سسٹم کے تحفظ کے لئے مربوط انتظامی منصوبہ‘‘ تیار کیا گیا ہے جس کی تخمینہ لاگت 212.38 کروڑ روپے ہے اور اسے وزیر اعظم کے ترقیاتی پیکیج (پی ایم ڈِی پی) کے تحت فنڈنگ کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔ اِس منصوبے میں کیچ منٹ ائیریا مینجمنٹ، کھدائی، جھیل کے اندر بستیوں کے لئے سیوریج کے کام اور دیگر تحفظ و خوبصورتی کے اقدامات شامل ہیں جو وقت کی پابندی کے ساتھ مکمل کئے جائیں گے۔میٹنگ میںتحفظ کے دائرہ کار کو وسعت دیتے ہوئے خوشحال سر اور گِل سر جھیلوں کی بحالی و خوبصورتی کے اَقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔یف سیکرٹری اَتل ڈولو نے مختلف محکموں کی مربوط کوششوں کی ستائش کی اور تمام منصوبہ بند اقدامات کی بروقت تکمیل پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ دیرپا حل ضروری ہیں جو ماحولیاتی بحالی، ورثے کے تحفظ اور جدید شہری ٹرانسپورٹ کو یکجا کریں۔